ٹائی ٹینک کے مسافر کی نایاب گھڑی ریکارڈ قیمت پر نیلام
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بیسویں صدی کی ایک عظیم تخلیق بحری جہاز ٹائی ٹینک کے ملبے سے ملنے والی ایک نایاب سنہری گھڑی تاریخ کی قیمتی ترین یادگار کے طور پر سامنے آگئی ہے، جو حالیہ نیلامی میں غیر معمولی رقم پر فروخت ہوکر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق 112 برس قبل بحرِ اوقیانوس کی منجمد تہہ میں اتر جانے والے بدنصیب ٹائی ٹینک کے ایک مسافر کی جیب میں موجود سونے کی نایاب گھڑی، ایک صدی سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد آج دنیا کی مہنگی ترین یادگار کے طور پر تاریخ رقم کر گئی ہے۔
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق برطانیہ میں منعقدہ ایک خصوصی نیلامی میں یہ 14 قیراط خالص سونے کی جیبی گھڑی غیر معمولی قیمت پر فروخت ہوئی۔ یہ گھڑی ٹائی ٹینک کے ممتاز اور صاحبِ ثروت مسافر ایسڈور اسٹراس کی ملکیت تھی—وہی اسٹراس جو باویریا میں پیدا ہوئے، آگے چل کر امریکہ کے نمایاں تاجر اور سیاست دان بنے، اور نیویارک کے معروف میسیز ڈیپارٹمنٹ اسٹور کے شریک مالک کی حیثیت سے شہرت پائی۔
ایسڈور اسٹراس اور ان کی اہلیہ آئڈا 14 اپریل 1912 کو ٹائی ٹینک کے بدقسمت سفر پر ساؤتھمپٹن سے نیویارک روانہ ہوئے تھے۔ قسمت نے انہیں واپسی کا موقع نہ دیا اور یہ پہلا سفر ہی ان کی زندگی کا آخری سفر ثابت ہوا۔
نیلامی میں اس تاریخی گھڑی نے 3.
عالمی میڈیا کے مطابق اگرچہ اس سے قبل بھی ٹائی ٹینک کے ڈوبنے کے بعد سمندر سے ملنے والی بے شمار اشیاء نیلام ہوتی رہی ہیں، مگر اس گھڑی کی قیمت نے تمام سابقہ تخمینوں اور توقعات کو پیچھے چھوڑ دیا۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ اس سے پہلے ٹائی ٹینک کی کسی بھی یادگار کی سب سے زیادہ قیمت ایک اور گھڑی کی فروخت نے قائم کی تھی—وہ گھڑی جہاز کے بہادر کپتان آرتھر راسٹران کی تھی، جنہوں نے سانحے کی رات 700 سے زائد مسافروں کو بچانے میں مرکزی کردار ادا کیا۔
کپتان راسٹران کی گھڑی 3.16 ملین آسٹریلوی ڈالر میں نیلام ہوئی تھی، مگر ایسڈور اسٹراس اور ان کی اہلیہ سے منسوب یہ سنہری گھڑی اس ریکارڈ کو بھی پیچھے چھوڑتے ہوئے ٹائی ٹینک کی سب سے مہنگی یادگار بن گئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ٹائی ٹینک کے
پڑھیں:
سونے کی قیمت میں نمایاں کمی
عالمی اور مقامی مارکیٹس میں سونے کی قیمت میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق فی تولہ سونا ایک ہزار 800 روپے سستا ہوگیا، جس کے بعد سونے کی نئی قیمت 4 لاکھ 35 ہزار 636 روپے ہوگئی، اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت میں ایک ہزار 543 روپے کی کمی ہوئی، جس کے بعد نئی قیمت 3 لاکھ 73 ہزار 487 روپے مقرر کی گئی ہے۔دوسری جانب عالمی مارکیٹ میں بھی سونے کی قیمت میں کمی کا رجحان دیکھا گیا، جہاں فی اونس سونا 18 ڈالر سستا ہونے کے بعد 4 ہزار 96 ڈالر پر آگیا۔