پاکستان کوسٹ گارڈز کی سمندر میں غیرقانونی ماہی گیری کے خلاف کاروائیاں
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
پاکستان کوسٹ گارڈز بلوچستان کے علاقوں اورماڑہ، پسنی اور جیوانی کے سمندر میں ٹرالنگ اور اسمگلنگ کے خلاف بر سرپیکار ہے۔
ٹرالنگ ایک ممنوع ماہی گیری کا طریقہ کار ہے جوکہ نہ صرف سمندری ماحولیات کو شدید نقصان پہنچاتاہے بلکہ ماہی گیروں کے روزگار کو بھی متاثر کرتا ہے۔ اس کے علاوہ ٹرالنگ والی کشتیاں اکثردیگر غیر قانو نی سر گرمیوں، ہتھیاروں اور منشیات کی اسمگلنگ میں بھی ملوث ہوتی ہیں۔
پاکستان کوسٹ گارڈزنے گزشتہ ایک ماہ کے دوران غیر قانونی ٹرالنگ کرتے ہوئے 12 فشنگ ٹرالرزکے خلاف بلوچستان کی سمندری حدود میں کارروائی کی۔ کوسٹ گارڈ کی لگاتار موجودگی سے ٹر النگ میں خاطر خواہ کمی آئی ہے جس کا مقامی ماہی گیروں کی طرف سے خیر مقدم کیا گیا اور سمندری حیاتات کا فائدہ ہوا۔
علاوہ ازیں سمندری حیات اور مچھلی کی افزائش کو نقصان پہنچانے والے 372ممنوعہ فشنگ نیٹس کو بھی ضبط کیا گیا۔ پاکستان کوسٹ گارڈز باور کراتی ہے کہ وہ بلا تفریق کسی بھی قسم کے دباؤ میں آئے بغیر اپنے فرائض منصبی ساحلی پٹی اور سمندری علاقے میں بخوبی انجام دے گی۔
ترجمان پاکستان کوسٹ گارڈز نے یہ بھی کہا کہ ہر طرح کی اسمگلنگ اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کی کو شش کرتے ہوئے ملکی معیشت کو مستحکم کرنے میں اپنا کردار ادا کر تی رہے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پاکستان کوسٹ گارڈز
پڑھیں:
بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین میں قیدیوں کے لیے کام کرنیوالی تنظیم نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ملک کے سکیورٹی اداروں نے ماہِ محرم کی آمد کے موقع پر مجالس عزا پڑھنے والے خطباء اور مقررین کو وسیع پیمانے پر طلب کر کے نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے شیعہ مذہبی مراسم پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحرینی سکیورٹی اداروں نے محرم الحرام سے قبل متعدد خطباء اور ذاکرین کو طلب کیا ہے اور عزاداری کی مجالس اور مذہبی شعائر کے انعقاد کے لیے کئی نئی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ان پابندیوں میں مجالسِ عزاء کے لیے چالیس منٹ کی وقت کی حد مقرر کرنا، بعض حسینی نعروں خصوصاً ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کے بلند کرنے یا دہرانے پر پابندی لگانا، نیز خطباء کو ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد سے وابستہ تاریخی اور سیاسی شخصیات کا تذکرہ کرنے سے روکنا شامل ہے۔
ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے ان فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بحرین کی شیعہ اکثریتی آبادی کے خلاف اختیار کی جانے والی محدودیت پسند پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات مذہبی مناسبتوں پر نگرانی اور کنٹرول بڑھانے کے مقصد سے کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ایسی پالیسیوں کا تسلسل مذہبی شعائر کی آزادانہ ادائیگی اور بحرینی معاشرے کی دینی و ثقافتی شناخت کے تحفظ پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔