بنگلہ دیش کی آئندہ عام انتخابات کے شفاف انعقاد کے لیے کامن ویلتھ سے تعاون کی درخواست
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس نے کہا ہے کہ ملک میں آئندہ عام انتخابات کو شفاف، پُرامن اور قابلِ اعتماد بنانے کے لیے کامن ویلتھ کی جامع معاونت ضروری ہے۔
اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس جمنہ میں کامن ویلتھ کی سیکریٹری جنرل شرلی آیورکور بوچوے سے ملاقات کے دوران پروفیسر یونس نے سیاسی عبوری دور میں بین الاقوامی تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔
یہ بھی پڑھیے: ڈھاکا میں پاک بنگلہ دیش عسکری تعاون پر اہم ملاقات
ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنے جمہوری انتقالِ اقتدار اور آئندہ عام انتخابات میں آپ کی بھرپور مدد درکار ہے۔
چیف ایڈوائزر نے بنگلہ دیش کے انتخابی عمل میں سیکریٹری جنرل کی گہری دلچسپی کو سراہا اور یقین دہانی کرائی کہ عبوری حکومت ایک آزاد، منصفانہ اور شفاف الیکشن کرانے کے لیے پرعزم ہے۔
جواب میں شرلی بوچوے نے انتخابات اور بعد از انتخاب مرحلے کے لیے کامن ویلتھ کی مکمل حمایت کا وعدہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ کامن ویلتھ کے 56 ممالک، جن میں جی 7 اور جی 20 کے رکن ممالک بھی شامل ہیں، بنگلہ دیش کے لیے قیمتی وسائل فراہم کر سکتے ہیں۔
سیکریٹری جنرل نے چیف ایڈوائزر کو اپنے اُن ملاقاتوں سے بھی آگاہ کیا جو انہوں نے چیف جسٹس، لا ایڈوائزر، فارن افیئرز ایڈوائزر اور چیف الیکشن کمشنر سمیت دیگر اہم شخصیات سے کیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ملک کے مستقبل کے بارے میں بہت پُرامید ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: بنگلہ دیش میں کوئی قانون قرآن و سنت کے خلاف نہیں بنایا جائے گا، بی این پی کا اعلان
انہوں نے اس بات کی تصدیق بھی کی کہ کامن ویلتھ انتخابات سے قبل متعدد مبصر مشنز تعینات کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔
ملاقات کے دوران انتخابی معاملات کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کے لیے مواقع، کاروبار کے فروغ، سوشل بزنس کے دائرے کا پھیلاؤ، اور بے روزگاری، کاربن اخراج اور عدم مساوات میں کمی لانے کے لیے ‘تھری زیرو وژن’ جیسے موضوعات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
واضح رہے کہ بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے آئندہ عام انتخابات فروری کے پہلے نصف میں منعقد کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انتخابات بنگلہ دیش کامن ویلتھ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انتخابات بنگلہ دیش کامن ویلتھ آئندہ عام انتخابات کامن ویلتھ بنگلہ دیش انہوں نے کے لیے
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔