ففتھ جنریشن تھریٹس،سوشل میڈیا پر ملک دشمن بیانیہ روکنے کے منصوبے کی منظوری
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
سوشل میڈیا پر ملک دشمن، بنیاد پرست اور نفرت انگیز بیانیہ روکنے کے منصوبے کی منظوری دے دی گئی۔
سیکرٹری محکمہ داخلہ پنجاب احمد جاوید قاضی نے سوشل میڈیا پر ملک دشمن اور نفرت انگیز بیانیہ روکنے کے 12 کروڑ 49 لاکھ روپے کی لاگت کے میڈیاتھنک ٹینک منصوبے کی انتظامی منظوری دے دی۔
منصوبے کے تحت انتشار اور شدت پسندی سے متعلق جعلی اور اشتعال انگیز خبروں پر فوری طور پر ایکشن لیا جائے گا۔ پنجاب حکومت نے میڈیا تھنک ٹینک بنانے کا فیصلہ کیاہے، محکمہ داخلہ پنجاب میڈیاتھنک ٹینک کےمنصوبے پرعملدرآمد کرے گا۔
پنجاب کا محکمہ داخلہ مین اسٹریم میڈیا، ڈیجیٹل میڈیا اور سوشل میڈیا کی24گھنٹے مانیٹرنگ کرے گا، 12 کروڑ49لاکھ روپے کی لاگت کاتھنک ٹینک کا منصوبہ24ماہ میں مکمل ہوگا۔ فیک نیوزکی فوری نشاندہی ممکن ہوگی،فوری سدباب کیا جائے گا۔
منصوبے کے تحتی ففتھ جنریشن تھریٹس ختم کیے جائیں گے، ایکس، فیس بک، یو ٹیوب، ٹک ٹاک، انسٹاگرام کی سخت مانیٹرنگ ہوگی۔ انتشار،شدت پسندی سےمتعلق جعلی اور اشتعال انگیزخبروں پرفوری طور پر ایکشن لیاجائے گا۔ فیک نیوزکی تجزیاتی رپورٹس مرتب کی جائیں گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور فوری طور پر لڑائی روکنا ناگزیر ہے۔ اپنے ایک بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ اب واپس پلٹنے کا وقت آ گیا ہے اور ہر جگہ جنگ و جدل کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔
انہوں نے زور دیا کہ بحری راستوں پر آزادانہ آمدورفت بحال کی جائے، کیونکہ عالمی تجارت اور علاقائی استحکام کے لیے محفوظ بحری گزرگاہیں انتہائی اہم ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔