روس کا یوکرین پر بڑا حملہ، 430 ڈرونز اور 18 میزائل داغ دیے، ہلاکتیں
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
روس کا یوکرین پر بڑا حملہ، 430 ڈرونز اور 18 میزائل داغ دیے، ہلاکتیں WhatsAppFacebookTwitter 0 15 November, 2025 سب نیوز
ماسکو(آئی پی ایس )روس نے یوکرین پر 430 ڈرونز اور 18 میزائل فائر داغے ہیں جس کے باعث 8 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ روس کے اس حملے میں شہری آبادی، رہائشی عمارتیں اور توانائی کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا ہے جس میں متعدد بلڈنگز کو نقصان پہنچا ہے۔ ان حملوں میں آذربائیجان کے سفارت خانے کی عمارت کو بھی نقصان پہنچا۔ ہے جس پر آذربائیجان نے روسی سفیر کو طلب کرکے احتجاج ریکارڈ کرایا۔
مختلف رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اس حملے میں 6 افراد کیف میں ہلاک ہوئے ہیں جبکہ مزید 2 جنوبی یوکرین میں ہلاک ہوئے۔ زخمیوں میں کم از کم 35 افراد بتائے گئے ہیں جن میں ایک حاملہ عورت بھی شامل ہے۔ توانائی کے انفراسٹرکچر پر بھی حملے کیے گئے جس کی وجہ سے کچھ علاقے تاریکی میں ڈوب گئے۔ روسی وزارت دفاع کا دعوی ہے کہ ان کا ہدف یوکرینی دفاعی اور توانائی ڈھانچے پر تھا۔ ساتھ ہی روس نے نیٹو کو بھی خبردار کیا ہے کہ وہ جنگ میں شامل نہ ہو ورنہ روس اور نیٹو کی براہِ راست جنگ ہوسکتی ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرغزہ میں عالمی فورس کی تعیناتی؛ پاکستان، اہم مسلم ممالک کی امریکی قرارداد کی حمایت غزہ میں عالمی فورس کی تعیناتی؛ پاکستان، اہم مسلم ممالک کی امریکی قرارداد کی حمایت صدر مملکت نے پاک فوج سے متعلق ترمیمی بل 2025 پر دستخط کر دیے بلومبرگ نے پاکستان کی معیشت اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی کا اعلان کر دیا اسلام آباد کچہری خودکش حملے کا ایک اور اہم سہولت کار گرفتار وفاقی آئینی عدالت کے لیے دارالحکومت میں جاری سرگرمیاں، تفصیلات سامنے آ گئیں غزہ میں عالمی فورس کی تعیناتی؛ پاکستان سمیت اہم مسلم ممالک کی امریکی قرارداد کی حمایتCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔