data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد: پاکستان میں توانائی کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت ہوئی ہے، جس کے مطابق زیرِ سمندر تیل اور گیس کے نئے ذخائر کی تلاش کے لیے 23 بلاکس کی منظوری دے دی گئی ہے۔

یہ فیصلہ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف پیٹرولیم کنسیشنز کی جانب سے کیا گیا، جس کے بعد ملکی آف شور انرجی سسٹم میں ایک نئی پیش رفت کا آغاز ہوگیا ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف پاکستان کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں مدد ملے گی بلکہ بیرونی انحصار کم ہونے اور ملکی معیشت کو مستحکم بنانے میں بھی اہم کردار ادا ہوگا۔

ماڑی انرجیز کی جانب سے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو بھیجے گئے باضابطہ مراسلے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کمپنی نے پاکستان ای اینڈ پی آف شور بِڈ راؤنڈ میں کامیاب بولی کے بعد مجموعی طور پر 23 بلاکس حاصل کیے ہیں، جن میں 18 بلاکس بطور آپریٹر جبکہ 5 بلاکس شراکت داری کی بنیاد پر شامل ہیں۔

اس کامیابی کے ساتھ پاکستان کی آف شور ایکسپلوریشن کی صلاحیت میں واضح اضافہ ہوا ہے اور اب ملک سمندر کی تہ میں موجود ممکنہ ذخائر کی نئی سطح تک رسائی حاصل کرنے کی پوزیشن میں آچکا ہے۔

مراسلے کے مطابق زیر سمندر سرچ آپریشن کے لیے مقامی اور بین الاقوامی توانائی کمپنیوں کے ساتھ اشتراک کیا جا رہا ہے، جن میں پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ، آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی اور ترکش پیٹرولیم اوورسیز کمپنی سرِفہرست ہیں۔

اسی کے ساتھ پرائم گلوبل انرجیز، فاطمہ پیٹرولیم، اورینٹ پیٹرولیم اور یونائیٹڈ انرجی پاکستان بھی اس مشترکہ کوشش کا حصہ ہیں۔ ان کمپنیوں کی شمولیت اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کی آف شور مارکیٹ عالمی توانائی اداروں کے لیے بھی انتہائی اہمیت اختیار کر چکی ہے۔

خط کے مندرجات کے مطابق حکومتِ پاکستان نے پیٹرولیم ایکسپلوریشن لائسنسز کا اجرا مکمل کر لیا ہے جب کہ پروڈکشن شیئرنگ معاہدے اور جوائنٹ آپریٹنگ ایگریمنٹس بھی طے پا چکے ہیں۔

ان تمام قانونی معاملات کی منظوری کے بعد اب عملی سرگرمیوں کا آغاز راستہ ہموار کر چکا ہے۔ نئے بلاکس کا دائرہ مکران اور انڈس بیسن کے وسیع سمندری علاقوں تک پھیلا ہوا ہے جہاں جدید ٹیکنالوجی اور بین الاقوامی ماہرین کی معاونت سے ذخائر کی کھوج کی جائے گی۔

ماہرین کے مطابق زیر سمندر توانائی ذخائر کی تلاش پاکستان کے مستقبل کے معاشی استحکام میں نہایت اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ اگر یہ عمل کامیاب ثابت ہوتا ہے تو ملک میں نہ صرف تیل و گیس کی پیداوار میں اضافہ ہوگا بلکہ درآمدی اخراجات میں واضح کمی کے ساتھ توانائی کے بحران میں بھی کمی آئے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے مطابق ذخائر کی کے ساتھ

پڑھیں:

کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر

محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔

تفصیلات کے مطابق  انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔

انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ،  پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔

اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے  www.seccap.dgcs..gos.pk  کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔

ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔

ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد