توانائی شعبے میں اہم سنگِ میل: سمندر میں تیل و گیس کے ذخائر تلاش کیلیے 23 بلاکس کی منظوری
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: پاکستان میں توانائی کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت ہوئی ہے، جس کے مطابق زیرِ سمندر تیل اور گیس کے نئے ذخائر کی تلاش کے لیے 23 بلاکس کی منظوری دے دی گئی ہے۔
یہ فیصلہ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف پیٹرولیم کنسیشنز کی جانب سے کیا گیا، جس کے بعد ملکی آف شور انرجی سسٹم میں ایک نئی پیش رفت کا آغاز ہوگیا ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف پاکستان کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں مدد ملے گی بلکہ بیرونی انحصار کم ہونے اور ملکی معیشت کو مستحکم بنانے میں بھی اہم کردار ادا ہوگا۔
ماڑی انرجیز کی جانب سے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو بھیجے گئے باضابطہ مراسلے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کمپنی نے پاکستان ای اینڈ پی آف شور بِڈ راؤنڈ میں کامیاب بولی کے بعد مجموعی طور پر 23 بلاکس حاصل کیے ہیں، جن میں 18 بلاکس بطور آپریٹر جبکہ 5 بلاکس شراکت داری کی بنیاد پر شامل ہیں۔
اس کامیابی کے ساتھ پاکستان کی آف شور ایکسپلوریشن کی صلاحیت میں واضح اضافہ ہوا ہے اور اب ملک سمندر کی تہ میں موجود ممکنہ ذخائر کی نئی سطح تک رسائی حاصل کرنے کی پوزیشن میں آچکا ہے۔
مراسلے کے مطابق زیر سمندر سرچ آپریشن کے لیے مقامی اور بین الاقوامی توانائی کمپنیوں کے ساتھ اشتراک کیا جا رہا ہے، جن میں پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ، آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی اور ترکش پیٹرولیم اوورسیز کمپنی سرِفہرست ہیں۔
اسی کے ساتھ پرائم گلوبل انرجیز، فاطمہ پیٹرولیم، اورینٹ پیٹرولیم اور یونائیٹڈ انرجی پاکستان بھی اس مشترکہ کوشش کا حصہ ہیں۔ ان کمپنیوں کی شمولیت اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کی آف شور مارکیٹ عالمی توانائی اداروں کے لیے بھی انتہائی اہمیت اختیار کر چکی ہے۔
خط کے مندرجات کے مطابق حکومتِ پاکستان نے پیٹرولیم ایکسپلوریشن لائسنسز کا اجرا مکمل کر لیا ہے جب کہ پروڈکشن شیئرنگ معاہدے اور جوائنٹ آپریٹنگ ایگریمنٹس بھی طے پا چکے ہیں۔
ان تمام قانونی معاملات کی منظوری کے بعد اب عملی سرگرمیوں کا آغاز راستہ ہموار کر چکا ہے۔ نئے بلاکس کا دائرہ مکران اور انڈس بیسن کے وسیع سمندری علاقوں تک پھیلا ہوا ہے جہاں جدید ٹیکنالوجی اور بین الاقوامی ماہرین کی معاونت سے ذخائر کی کھوج کی جائے گی۔
ماہرین کے مطابق زیر سمندر توانائی ذخائر کی تلاش پاکستان کے مستقبل کے معاشی استحکام میں نہایت اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ اگر یہ عمل کامیاب ثابت ہوتا ہے تو ملک میں نہ صرف تیل و گیس کی پیداوار میں اضافہ ہوگا بلکہ درآمدی اخراجات میں واضح کمی کے ساتھ توانائی کے بحران میں بھی کمی آئے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے مطابق ذخائر کی کے ساتھ
پڑھیں:
ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
واشنگٹن:مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔
یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔
ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔