پاکستان کا عالمی فورم پر بحری سلامتی اور کنیکٹیویٹی کے تحفظ کا عزم
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
ڈپٹی وزیراعظم و وزیرِ خارجہ نے اہم عالمی فورم سے خطاب میں کہا ہے کہ پاکستان اپنی جغرافیائی اہمیت، سمندری راستوں کے سنگم پر موجودگی اور بحیرۂ عرب کو ’5واں پڑوسی‘ قرار دیتے ہوئے عالمی بحری سلامتی، تنوعِ کنیکٹیویٹی اور پائیدار ترقی کے لئے بھرپور تعاون چاہتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:یورپی یونین انڈو پیسفک فورم: اسحاق ڈار کی سنگاپور کے وزیرِ خارجہ اور بنگلادیشی سفیر سے غیررسمی ملاقات
انہوں نے کہا کہ کراچی سے گوادر تک پاکستان کی بندرگاہیں وسطی ایشیا کے خشکی میں گھرے ممالک کو عالمی تجارتی نظام سے جوڑنے کا دروازہ ہیں، جبکہ بحیرۂ عرب ہماری قومی سلامتی، اقتصادی مضبوطی، اور غذائی و توانائی کے تحفظ کا مرکزی ستون ہے۔
متعدد النوع اور سرحد پار خطرات
وزیرِ خارجہ نے بتایا کہ آج دنیا کو بحری شعبے میں کئی الجھے ہوئے خطرات کا سامنا ہے، بحری قزاقی، دہشتگردی، اسلحہ و منشیات اسمگلنگ، سائبر حملے، سمندری آلودگی اور ماحولیاتی تبدیلی سے بڑھتے خطرات۔
Statement by the Deputy Prime Minister/Foreign Minister on Critical Maritime Infrastructure and Connectivity/Development
????⬇️https://t.
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) November 22, 2025
ان تمام چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ آگاہی، معلومات کے تبادلے اور ابتدائی وارننگ نظام کی اشد ضرورت ہے۔
بین الاقوامی قوانین کے تحت تعاون ضروری
خطاب میں زور دیا گیا کہ سمندر کو باہمی تعاون اور مشترکہ خوشحالی کا ذریعہ بنایا جائے۔ کسی بھی قسم کی بالا دستی یا خارجیت پر مبنی بحری انتظامات مناسب نہیں۔
سمندری معاملات کو اقوام متحدہ کے کنونشن برائے قانونِ سمندر (UNCLOS) سمیت علاقائی و دوطرفہ قانونی فریم ورکس کے مطابق چلایا جانا چاہیے۔ سمندری تنازعات کا حل ہمیشہ بین الاقوامی قانون کے تحت پرامن طریقے سے ہونا چاہیے۔
مزید کہا گیا کہ عالمی کنیکٹیویٹی کو ایسے نظام سے جوڑا جائے جو زیادہ مضبوط ہو، تاکہ کسی ایک خطے میں پیدا ہونے والی رکاوٹ عالمی سطح پر بحران کا باعث نہ بنے۔ ساتھ ہی تکنیکی تعاون اور جدید حلوں کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔
پاکستان نے SUPARCO کے تعاون سے سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور مصنوعی ذہانت پر مبنی ویسل ٹریکنگ کو اپنے جوائنٹ میری ٹائم انفارمیشن کوآرڈی نیشن سینٹر میں شامل کیا ہے اور مزید تعاون کا خواہاں ہے۔
یورپی یونین سمیت عالمی شراکت داروں سے تعاون کی خواہش
ڈپٹی وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اہم بحری تنصیبات کے تحفظ کے لئے یورپی یونین اور دیگر ممالک کے ساتھ ٹیکنالوجی ٹرانسفر، قوانین کے تبادلے اور استعداد کار میں اضافے کے پروگراموں کو مزید وسعت دینا چاہتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:تقسیم اور طاقت کی دوڑ دنیا کے لیے خطرہ ہے، اسحاق ڈار
آخر میں انہوں نے کہا کہ ہماری ترجیح یہ ہے کہ سمندر ہمیشہ امن، خوشحالی اور مشترکہ ترقی کے خطے رہیں—جہاں کنیکٹیویٹی مقابلے نہیں بلکہ مضبوطی پیدا کرے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسحا ق ڈار عالمی فورم میری ٹائم نائب وزیر اعظم وزیر خارجہ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسحا ق ڈار عالمی فورم میری ٹائم
پڑھیں:
پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
اسلام آباد:پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کردی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی پر اجلاس ہوا جس میں ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر تعلیم خالد مقبول، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔
وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025ء میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026ء میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی، موبائل اسپیکٹرم میں اضافے سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔
وزیراعظم کو "کنیکٹ پاکستان وژن 2030ء " کے اجراء کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، بتایا گیا ہے کہ باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، جون 2026ء تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دئیے گئے، حکومتی اقدامات کی بدولت پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں ہوئی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1164.7 ملین ڈالر رہا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے تحت حکومت پاکستان کی 130 سروسز کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے، پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس دیئے گئے جن میں 5053 ہائے اینڈ تربیتی پروگرام منعقد ہوئے ؛ لیڈرشپ اور سافٹ اسکلز کی 2700 ٹرینینگز کا انعقاد ہوا، ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کے منصوبہ کا افتتاح جلد ہی ہوگا۔
وزیراعظم کو بتایا گیا کہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت وفاقی حکومت کی کئی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کی نفاذ اور اس حوالے سے کئی منصوبے اور تربیتی سیشنز منعقد کئے جا رہے ہیں۔
بتایا گیا کہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، وزارت ریلوے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، وزارت قومی غذائی تحفظ ، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو، وزارت قومی غذائی تحفظ، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان پوسٹ، وفاقی ترقیاتی ادارہ، وزارت بحری امور اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں علی بابا مصنوعی ذہانت کے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تمام ٹیم کی پذیرائی کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے لئے جانے والے اقدامات پالیسیوں کا ثمر ہے، ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، آئی ٹی کے شعبے میں دیئے جانے والے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔