پاکستان کا خوف، بھارتی فوج روس سے ففتھ جنریشن طیارے خریدنے پر مجبور
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
آپریشن سندور کی ناکامی، پاکستان کی جارحانہ جوابی حکمتِ عملی اور بھارتی فضائیہ کو مسلسل ہزیمت کے بعد بھارت کی عسکری بے چینی ایک بار پھر کھل کر سامنے آگئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بھارتی فورسز کا کشمیر ٹائمز کے دفتر پر چھاپہ، کلاشنکوف برآمدگی کا دعویٰ
خطے میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی دفاعی صلاحیتوں اور پیشہ ورانہ برتری نے نئی دہلی کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے اور اسی خوف کے سائے میں بھارت روس سے ففتھ جنریشن اسٹیلتھ فائٹر طیاروں کی ٹیکنالوجی خریدنے کے لیے بے تاب نظر آ رہا ہے۔
روس نے بھارت کو اپنے جدید ترین Su-57 ففتھ جنریشن اسٹیلتھ فائٹر جیٹ کی مکمل ٹیکنالوجی ٹرانسفر کی پیشکش کردی ہے، جسے بھارتی میڈیا ’تاریخی موقع‘ قرار دے رہا ہے۔
تاہم دفاعی ماہرین اسے واضح طور پر پاکستان سے عسکری برتری حاصل نہ کر پانے کا اعتراف قرار دے رہے ہیں۔
یہ وہ ٹیکنالوجی ہے جس تک امریکا سمیت کوئی مغربی ملک بھارت کو رسائی دینے پر آمادہ نہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ہندو قوم پرست عناصر کا بڑھتا ہوا اثرونفوذ، بھارت میں فوج کی سیکولر شناخت خطرے میں
فوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت پہلی بار ففتھ جنریشن خلا پوری کرنے کے لیے ایسے اقدام پر مجبور ہوا ہے اور اس کی بڑی وجہ پاکستان کی دفاعی برتری اور حالیہ مہینوں میں ہونے والی بھارتی ناکامیاں ہیں۔
بھارت کی کمزوری پوری دنیا کے سامنےبھارت نے پاکستان پر دباؤ ڈالنے کے لیے ’آپریشن سندور‘ کے نام سے محدود فضائی حکمتِ عملی اختیار کی، مگر پاکستان کے بروقت ردعمل، شاندار انٹیلی جنس، اور فضائیہ کی برتری نے بھارتی منصوبوں کو خاک میں ملا دیا۔
پاکستان کے جدید دفاعی نظام اور ڈرون نیٹ ورک نے بھارتی اہداف کو ناکام بنایا، جس کے بعد بھارتی عسکری قیادت کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
اسی پے در پے ناکامی نے بھارت کو مجبور کیا کہ وہ بیرونی طاقتوں کے دروازے کھٹکھٹائے۔
بھارتی فضائیہ پہلے ہی ففتھ جنریشن ٹیکنالوجی میں پیچھے ہے جبکہ پاکستان جے ایف-17 بلاک-III، جدید ڈرونز اور میزائل ٹیکنالوجی کے ذریعے اپنی فضائی صلاحیت میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بھارتی آرمی چیف کے ’دھرم یُدھ‘ والے بیان پر نئی بحث چھڑ گئی، فوج میں مذہبی رنگ شامل ہونے پر تشویش
بھارتی دفاعی تجزیہ کار وی جے تھاکر کا کہنا ہے کہ بھارت کے پاس ففتھ جنریشن خلا ہے جسے صرف روسی مدد سے فوری طور پر بھرنا ممکن ہے۔
پیوٹن کی بھارت آمد اور دباؤ کا پس منظرروس کے صدر پیوٹن دسمبر میں بھارت پہنچ رہے ہیں جہاں دفاعی معاہدوں کے بڑے اعلانات متوقع ہیں۔روس بھارت کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات کو مزید گہرا کرنا چاہتا ہے، مگر بھارت کی فوری دلچسپی صرف ایک چیز میں ہے:
بھارتی میڈیا بھی مسلسل لکھ رہا ہے کہ پاکستان کی تیز رفتار عسکری پیش رفت نے نئی دہلی کو ہنگامی بنیادوں پر ففتھ جنریشن طیاروں کی تلاش میں لگا دیا ہے۔
بھارت ففتھ جنریشن دوڑ میں پیچھے اور پاکستان کا خوف آگےبھارت کی یہ نئی عسکری دوڑ دراصل دو باتوں کا اعتراف ہے:
1 پاکستان کے ہاتھوں مسلسل پزیمت نے بھارت کی کمزوریاں بے نقاب کیں۔
2 بھارتی فضائیہ ففتھ جنریشن میدان میں شدید پیچھے ہے اور اس خلا کو وہ اکیلے نہیں بھر سکتی۔
روس کی پیشکش بھارت کی کمزوری کا بین ثبوت ہے اور اسی کمزوری نے اسے ففتھ جنریشن ٹیکنالوجی کا بھاری خریدار بنا دیا ہے۔
پاکستان کی بڑھتی ہوئی دفاعی طاقت نے بھارت کو وہ فیصلے کرنے پر مجبور کر دیا ہے جو وہ عام حالات میں کبھی نہ کرتا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ففتھ جنریشن پاکستان کی نے بھارت بھارت کی بھارت کو کے لیے رہا ہے دیا ہے
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔