علیمہ خان کے نام موجودجائیداد کی تفصیلات عدالت میں پیش، دسویں بار وارنٹ بھی جاری
اشاعت کی تاریخ: 17th, November 2025 GMT
بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان کے نام موجود جائیداد کی تفصیلات عدالت میں پیش کردی گئی.راولپنڈی کی انسداد دہشتگردی عدالت میں علیمہ خان سمیت 11 ملزمان کے خلاف 26 نومبر کے احتجاج پر درج مقدمے کی سماعت ہوئی جہاں آج بھی علیمہ خان اور ان کے وکلا پیش نہیں ہوئے۔ عدالت نے مسلسل غیرحاضری پردسویں مرتبہ علیمہ خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے۔ اس کے علاوہ پنجاب ریونیو بورڈ نے علیمہ خان کی جائیداد سے متعلق 38 اضلاع کے ڈی سیز کی رپورٹ عدالت میں جمع کرائی۔ رپورٹ کے مطابق علیمہ خان کے نام پر ضلع بھکر میں 51 کنال 16 مرلے اراضی ہے، ضلع لاہور میاں موضع میر میں علیمہ خان کے نام پر ایک کنال 4 مرلے زمین ہے، موضع نور پور کمبواں لاہور میں علیمہ خان کے نام ایک کنال اراضی ہے۔رپورٹ میں بتایاگیا ہےکہ تحصیل رائے ونڈ موضع سلطان میں علیمہ خان کے نام 64 کنال 14 مرلے اراضی ہے، ضلع میانوالی میں علیمہ خان کے نام 217 کنال 5 مرلے ہیں جب کہ موضع بازار شیخوپورہ میں علیمہ خان کے نام 4 کنال 13 مرلے اراضی ہے۔اس کے علاوہ پنجاب کے 4 اضلاع میں علیمہ خان کے نام کل 338 کنال اراضی علیمہ خان کے نام ہے۔دوران سماعت پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے علیمہ خان کی مسلسل غیرحاضری پر پراپرٹی سیل کرنے کی استدعا کی اور بتایا کہ عدالتی حکم پرعلیمہ خان کے مختلف بینکوں میں 37 اکاؤنٹ فریز کردیے گئے ہیں۔ عدالت نے علیمہ خان کے ایک نجی بینک کے 15 اور دوسرے بینک کا ایک اکاؤنٹ فریز کرنے کے بھی احکامات جاری کیے۔ بعد ازاں عدالت نے مقدمے کی سماعت 29 نومبر تک ملتوی کردی۔ واضح رہے کہ علیمہ خان سمیت 11 ملزمان کے خلاف تھانہ صادق آباد میں انسداد دہشتگردی دفعات کے تحت مقدمہ درج ہے جہاں علیمہ خان پر 26 نومبر کےاحتجاج میں جلاؤ، گھیراؤ، کارسرکار میں مداخلت اور کارکنوں کو پرتشدد احتجاج پر اکسانے کا الزام ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: میں علیمہ خان کے نام عدالت میں اراضی ہے
پڑھیں:
وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی، وفاقی آئینی عدالت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ سپلائی کرنے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا.عدالت نے قرار دیا ہے کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31اے میں ابہام ہے۔
جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ جاری کر دیا. وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں کہا حکومت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈسپلائی کرنے پر مل مالکان پر اضافی ٹیکس عائد کیا۔
اضافی ٹیکس سال 2024 کے فنانس ایکٹ کی مد میں وصول کیا جا رہا تھا،قانون کے مطابق پولٹری فارمز کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے،قانون کے مطابق استثنی ملنے پر پولٹری فارمز رجسٹریشن کے پابند نہیں ہیں۔
قانون غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے،رجسٹریشن کی قانونی پابندی نہ ہونے پر پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کو سزا نہیں دی جا سکتی،وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔
لاہور ہائیکورٹ نے پولٹری فیڈ ملز سے 4% اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا تھا.پولٹری فیڈ ملز مالکان نے اضافی ٹیکس کی وصولی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔