سنگجانی جلسہ کیس: عمر ایوب اور زرتاج گل کا پاسپورٹ بلاک کرنے کا حکم، شیخ وقاص کے وارنٹ جاری
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: انسدادِ دہشتگردی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں عمر ایوب اور زرتاج گل کے پاسپورٹ بلاک کرنے کا حکم جاری کر دیا۔ یہ حکم سنگجانی جلسہ کیس کی سماعت کے دوران جاری کیا گیا، جس کی صدارت اسلام آباد کی انسدادِ دہشتگردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے کی۔
عدالت نے ہدایت دی کہ دونوں رہنماؤں کے پاسپورٹ فوری طور پر بلاک کر کے اس حوالے سے جامع رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے تاکہ آئندہ سماعت میں پیش رفت کا جائزہ لیا جا سکے۔
اسی کیس میں عدالت نے پی ٹی آئی کے ایک اور رہنما شیخ وقاص اکرم کے قابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری بھی جاری کیے ہیں۔ جج نے حکم دیا کہ پولیس ملزمان کی حاضری یقینی بنائے تاکہ کیس کی کارروائی مزید مؤثر انداز میں آگے بڑھ سکے۔
عدالت نے کیس کی مزید سماعت 3 دسمبر تک ملتوی کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کر دی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: عدالت نے
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے روک دیا
اسلام آباد:ہائیکورٹ نے جاری اشتہار کے مطابق اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) میں نئی بھرتیوں پر عملدرآمد سے روک دیا۔
عدالت نے حکم دیا کہ اسامیوں کی بھرتی کے لیے جاری کیے گئے اشتہار پر مرکزی درخواست کے حتمی فیصلے تک عملدرآمد معطل رہے گا۔ جسٹس محمد اعظم خان نے یہ احکامات جاری کرتے ہوئے متفرق درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات بھی دور کر دیے۔
حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ عدالت درخواست کے میرٹ پر دیے بغیر متفرق درخواست کو منظور کررہی ہے۔ عدالت نے اشتہار پر عملدرآمد روکنے کی متفرق درخواست منظور کرتے ہوئے اسے نمٹا دیا، جبکہ مرکزی کیس کی سماعت کے لیے 22 اگست کی تاریخ مقرر کر دی گئی۔
واضح رہے کہ اے این ایف کے کانسٹیبل محمد شفیق خان نے اپنے وکیل محمد علی رضا کے ذریعے اسامیوں کے اشتہار کو عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے۔ درخواست میں وزارتِ داخلہ، وزارتِ قانون اور ڈائریکٹر جنرل اے این ایف کو فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ گزشتہ 10 سال سے اے این ایف میں ایک ہی عہدے پر خدمات انجام دے رہا ہے، لیکن اسے کوئی ترقی نہیں دی گئی۔ اس نے بتایا کہ محکمہ کے 665 کانسٹیبلز کی سینیارٹی فہرست میں اس کا نمبر 232 ہے، اس کے باوجود محکمانہ ترقی کا حق نظر انداز کیا گیا۔
درخواست میں کہا گیا کہ ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی کا اجلاس بلائے بغیر نئی براہِ راست بھرتیوں کا اشتہار جاری کرنا غیر قانونی ہے۔ مزید مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اے این ایف کے سروس رولز کے تحت پہلے سے موجود ملازمین کی ترقی کا حق ختم کرکے براہِ راست بھرتیوں کا اشتہار دیا گیا ہے۔
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ دیگر اداروں سے ڈیپوٹیشن پر آنے والے افسران کی غیر قانونی انٹری روک کر سویلین ملازمین کا سروس اسٹرکچر بحال کیا جائے۔ عدالت اے این ایف کا جاری کردہ حالیہ بھرتیوں کا اشتہار غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کرے اور تمام خالی اسامیوں پر محکمانہ ترقیوں کے لیے ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی فوری تشکیل دینے کا حکم جاری کرے۔