شیخ رشید کو عمرہ سے روکنے پر وفاقی حکومت کو نوٹس،ڈی جی ایف آئی اے اور پاسپورٹ عدالت طلب
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
راولپنڈی:
شیخ رشید کو عمرہ روانگی سے روکنے پر وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے عدالت نے ڈی جی ایف آئی اے اور ڈی جی پاسپورٹ کو طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کو عمرہ کے لیے سعودی عرب جانے سے روکنے کے معاملے پر دائر توہینِ عدالت کی درخواست عدالت نے سماعت کے لیے منظور کر لی۔ عدالت نے وفاقی حکومت، ڈی جی ایف آئی اے اور ڈی جی پاسپورٹ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 18 نومبر کو جواب سمیت طلب کر لیا ہے۔
سماعت کے دوران جسٹس صداقت علی خان نے ریمارکس دیے کہ یہ توہینِ عدالت کا ٹرائل چلے گا اور جو بھی ذمہ دار ہوا اسے سزا یا جزا ملے گی۔
عدالت نے استفسار کیا کہ یہ معاملہ سنگل بینچ کا تھا تو ڈویژن بینچ کے سامنے کیسے لگا؟ جس پر عدالت نے ہدایت دی کہ کیس کو دوبارہ سنگل بینچ میں مقرر کیا جائے۔
سماعت کے موقع پر سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد بھی کمرہ عدالت میں موجود رہے۔ ان کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالت نے واضح حکم دیا تھا کہ شیخ رشید کو عمرہ پر جانے دیا جائے، تاہم اس کے باوجود ایئرپورٹ پر ایف آئی اے اہلکاروں نے انہیں روک لیا، جو عدالتی حکم کی کھلی خلاف ورزی اور توہینِ عدالت ہے۔
عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اگلی سماعت 18 نومبر کو مقرر کر دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایف آئی اے عدالت نے کو عمرہ کو نوٹس
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔