بلوچستان کے ساحلی علاقے اورماڑہ میں نایاب نسل کی ڈولفن مردہ پائی گئی
اشاعت کی تاریخ: 23rd, November 2025 GMT
بلوچستان کے ساحلی علاقے اورماڑہ سے نادر و نایاب نسل کی پورپوائز ڈولفن مردہ حالت میں ملی ہے، جسے سائنسی طور پر انڈو پیسیفک فن لیس پورپوائز ڈولفن کے نام سے شناخت کیا جاتا ہے۔ مقامی زبان میں اس ڈولفن کو ٹِبی ڈولفن کہا جاتا ہے۔
پاکستان کے ساحلی پانیوں میں اس نسل کی تعداد مسلسل کم ہو رہی ہے جبکہ یہ واقعہ انتہائی کم وقت میں دوسری ہلاکت ہے جس نے ماہرینِ ماحولیات کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
ڈبلیو ڈبلیو ایف کے تکنیکی مشیر محمد معظم خان کے مطابق انتہائی قلیل عرصے کے دوران نایاب نسل کی ڈولفن کی ہلاکت کا یہ دوسرا واقعہ ہے جو ہمارے ساحلی ماحول کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ دنوں گوادر اور گنز کے ساحلی علاقوں میں ڈولفن کے بڑے جھنڈ دیکھے گئے تھے جو سمندر میں زندگی اور تنوعِ حیات کی خوبصورتی کو اجاگر کرتے ہیں، تاہم پورپوائز ڈولفن کی موت سمندری ماحول کو درپیش خطرات کی واضح نشاندہی بھی کرتی ہے۔
معظم خان نے مزید کہا کہ ساحلی ماحولیاتی نظام کا تحفظ، غیر ذمہ دارانہ فشنگ کی روک تھام اور میرین آلودگی کے خاتمے کے لیے ہنگامی اقدامات ناگزیر ہیں تاکہ مستقبل میں ایسی نایاب آبی مخلوقات کی اموات کو روکا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔