اسلام آباد کچہری حملے کے ملزمان گرفتار، نور ولی نے منصوبہ بندی کی، وزیر اطلاعات
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
فوٹو: اسکرین گریب/جیو نیوز
وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں کچہری حملے کے ملزمان کو 48 گھنٹوں میں گرفتار کیا گیا، انٹیلیجنس بیورو اور سی سی ڈی نے حملے کے 4 ملزمان کو گرفتار کیا، نور ولی محسود نے دہشت گرد حملے کی منصوبہ بندی کی۔
اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا کہ جی الیون حملہ افغان شہری عثمان شنورای نے کیا، عثمان شنواری ننگرہار کا رہائشی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سی ٹی ڈی نے ساجد اللّٰہ عرف شینا، کامران خان، محمد ذالی اور شاہ منیر کو گرفتار کیا ہے، ہینڈلر ساجد اللّٰہ عرف شینا خودکش حملہ آور اور جیکٹ کو لے کر آیا۔
پارکنگ ایریا میں دھماکے سے آگ لگ گئی اور قریب کھڑی گاڑیاں بھی آگ کی لپیٹ میں آگئیں۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ ساجد اللّٰہ نے 2015ء میں تحریک طالبان افغانستان میں شمولیت اختیار کی، ساجد اللّٰہ نے افغانستان کے اندر مختلف ٹریننگ کیمپس میں تربیت حاصل کی۔
عطا تارڑ نے کہا کہ دہشت گردوں کا ٹارگٹ راولپنڈی اور اسلام آباد تھے، سیکیورٹی کی وجہ سے حملہ آور کسی ٹارگٹ تک نہیں پہنچ سکے، دہشت گردوں کو اسلام آباد کے مضافات میں پہلی جگہ ملی جسے خودکش حملہ آور نے ٹارگٹ کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں نے افغانستان سے تربیت حاصل کی تھی، افغانستان میں موجود نور ولی محسود نے حملے کی منصوبہ بندی کی۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ 2023ء میں ساجد اللّٰہ نے داد اللّٰہ نامی شخص سے ملاقات کی، حملے کی منصوبہ بندی خوارج سرغنہ نور ولی محسود نے اپنے کمانڈر داد اللّٰہ کے ذریعے کی، داد اللّٰہ اس وقت افغانستان میں موجود ہے۔
وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ ساجد اللّٰہ عرف شینا نے پاکستان واپس آکرخودکش حملہ آور عثمان شنواری سے ملاقات کی۔ ساجد اللّٰہ عرف شینا مرکزی ملزم ہے، یہ تحریک طالبان کا رکن رہا ہے، عطا تارڑ کی پریس کانفرنس کے دوران ساجد اللّٰہ عرف شینا کا اعترافی بیان بھی دکھایا گیا۔
عطا تارڑ نے کہا کہ ہماری سیکیورٹی ایجنسیاں، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور پاک فوج پوری طرح الرٹ ہیں۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ تمام حقائق ہم نے قوم کے سامنے رکھے ہیں، یہ ایک بڑی کامیابی ہے، اس سے دہشت گردی کے خاتمے میں بہت مدد ملے گی، شہریوں کی حفاظت کے لیے ہم تمام تر اقدامات کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: وزیر اطلاعات نے عطا تارڑ نے کہا نے کہا کہ حملہ آور ساجد الل نور ولی
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔