ممتا بنرجی کا کہنا ہے کہ اگر الیکشن کمیشن آف انڈیا کا مقصد بنگلہ دیشی شہریوں کو ووٹر لسٹ سے ہٹانا ہے تو کمیشن مدھیہ پردیش اور اترپردیش میں یہ عمل کیوں کررہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ریاست مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے الیکشن کمیشن کے ذریعہ ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) پر ایک بار پھر سوال اٹھایا ہے۔ انہوں نے الیکشن کمیشن آف انڈیا (ایس آئی آر) کے خلاف منعقد ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایس آئی آر کے بعد جب ووٹر لسٹ کا مسودہ جاری ہو جائے گا تب لوگوں کو الیکشن کمیشن اور بی جے پی کی جانب سے پیدا کی گئی آفت کا احساس ہوگا۔ انہوں نے حال ہی میں بہار میں ہوئے اسمبلی انتخاب کے نتائج کے متعلق بھی کئی الزامات عائد کئے ہیں۔ ممتا بنرجی نے چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ اگر بی جے پی بنگال میں مجھے چوٹ پہنچانے کی کوشش کرے گی تو میں پورے ہندوستان میں اس کی بنیاد ہلا کر رکھ دوں گی۔ ان کا کہنا ہے کہ بہار اسمبلی انتخاب کا نتیجہ ایس آئی آر کا ہی پیش خیمہ ہے، اپوزیشن وہاں بی جے پی کی چال نہیں بھانپ سکی، اگر ایس آئی آر 3-2 سالوں میں کیا جائے تو ہم اس عمل کی ہرممکن وسائل کے ساتھ حمایت کریں گے۔

الیکشن کمیشن آف انڈیا مخالف ریلی میں ممتا بنرجی نے کہا کہ الیکشن کمیشن اب ایک غیرجانبدار ادارہ نہیں رہ گیا ہے، یہ بی جے پی کمیشن بن گیا ہے۔ بی جے پی سیاسی طور پر میرا مقابلہ نہیں کر سکتی ہے اور نہ ہی مجھے شکست دے سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ایس آئی آر کا مقصد بنگلہ دیشی شہریوں کو ووٹر لسٹ سے ہٹانا ہے تو الیکشن کمیشن مدھیہ پردیش اور اترپردیش میں یہ عمل کیوں کر رہا ہے۔ بنگلہ دیش کے متعلق ممتا بنرجی نے کہا "میں بنگلہ دیش کو ایک ملک کے طور پر پیار کرتی ہوں، کیونکہ میری زبان ایک ہی ہے، میں بیربھوم میں پیدا ہوئی، ورنہ مجھے بھی بنگلہ دیشی کہا جاتا"۔

ممتا بنرجی کا کہنا ہے کہ روہنگیا ملک میں کہاں سے داخل ہوتے ہیں، سرحد کی دیکھ بھال کون کر رہا ہے۔ مودی حکومت ہی سرحد کی دیکھ ریکھ کرتی ہے۔ سی آئی ایس ایف ایئرپورٹ کی دیکھ بھال کرتا ہے۔ محکمہ کسٹم بھی مودی حکومت کے ماتحت ہے تو ہم نے یہ (دراندازی) کیسے کرا دیا۔ بنگال پر قبضہ کرنے کی کوشش میں بی جے پی آئندہ گجرات انتخاب ہار جائے گی۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ میزورم، منی پور اور آسام میں ایس آئی آر نہیں ہو رہا ہے، یہ بنگال میں ہو رہا ہے کیونکہ انہیں بنگال پر قبضہ کرنا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: الیکشن کمیشن ا ممتا بنرجی نے کا کہنا ہے کہ ایس آئی آر ووٹر لسٹ بی جے پی کہا کہ رہا ہے

پڑھیں:

یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام

یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔

یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔

کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔

یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔

کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن