رجب بٹ اور سامعہ حجاب کی نامناسب گفتگو وائرل، انٹرنیٹ پر شدید ردعمل
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
کراچی:
متنازع یوٹیوبر اور انفلوئنسر رجب بٹ ایک بار پھر خبروں کی زینت بن گئے۔
تنازعات میں گھرے یوٹیوبر رجب بٹ کچھ عرصے سے برطانیہ میں مقیم ہیں جہاں وہ پاکستان میں درج متعدد کیسز کے بعد منتقل ہوئے تھے اور وہیں سے اپنا مواد بنا رہے ہیں۔
دوسری جانب سامعہ حجاب بھی ایک معروف مگر متنازع انفلوئنسر ہیں۔ وہ اُس وقت شہرت میں آئیں جب انہوں نے اپنے سابق منگیتر پر اغوا کا مقدمہ درج کروایا تھا۔ بعدازاں عدالت سے باہر ہونے والے تصفیے کے باعث انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ سمیہ اس وقت دبئی میں رہتی ہیں۔
حال ہی میں سامعہ حجاب نے فیشن اور اپنے بولڈ لباس کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ لوگوں کی چھوٹی سوچ کی وجہ سے انکے کپڑے بھی چھوٹے ہورہے ہیں۔ انہوں نے رجب بٹ کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ جس طرح عوام نے رجب کا ساتھ نہیں دیا، ویسا ہی سلوک اُن کے ساتھ بھی کیا جا رہا ہے۔
اسی دوران سامعہ حجاب اور رجب بٹ نے ٹک ٹاک پر ایک ساتھ لائیو سیشن کیا جہاں دونوں کے درمیان ہونے والی ’’نامناسب گفتگو‘‘ کلپ کی شکل میں سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔ دوران گفتگو رجب بٹ نے سامعہ کے جسم سے متعلق نامناسب تبصرے کیے جن کا سامعہ نے بھی بے تکلف انداز میں جواب دیا۔
رجب بٹ نے سامعہ کے جسم کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اُن کا باڈی شیپ خوبصورت ہے، جس پر سامعہ نے جواب دیا کہ اُن کا پیٹ نکلا ہوا ہے اور وہ اسے کم کرنے کے لیے جم جانا چاہتی ہیں۔ سامعہ نے مزید کہا کہ وہ ٹائٹ کپڑے پہنتی ہیں اور سب اُن کا پیٹ دیکھ چکے ہیں۔ اس پر رجب نے کہا کہ وہ اُن کا پیٹ نہیں بلکہ باقی حصے دیکھتے ہیں۔
یہ کلپ وائرل ہوتے ہی سوشل میڈیا پر شدید ردعمل سامنے آیا۔ صارفین نے گفتگو کو انتہائی نامناسب، غیر اخلاقی اور ’’سستا مواد‘‘ قرار دیا۔
ایک صارف نے لکھا کہ ’’یہ سب بے شرم لوگ ہیں، وہ لڑکی کی باڈی پر اتنے گھٹیا تبصرے کر رہا ہے۔‘‘
ایک صارف نے رجب پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’’اسے اپنی بیوی کی کوئی پروا نہیں، یہاں مزے لے رہا ہے۔ جبکہ ایک اور نے کہا کہ "بہت ہی سستا کانٹینٹ۔”
سوشل میڈیا پر جاری تنقید اور ردعمل نے دونوں انفلوئنسرز کو ایک بار پھر تنازعات کی زد میں لا کھڑا کیا ہے۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل کہا کہ
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔