Jasarat News:
2026-07-24@03:58:28 GMT

مودی سرکارکی بنیادیں ہلادوں گی،ممتا بنرجی

اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

بنگال:بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے مودی سرکار کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں بی جے پی کی بنیادیں ہلادوں گی۔

مغربی بنگال میں جاری ایس آئی آر پر ترنمول کانگریس کی حکومت نے سخت احتجاج کیا ہوا ہے۔ بنگال میں 3 بوٹھ لیول آفیسر BLO کی موت کے بعد سیاست مزید گرم ہو گئی ہے۔

وزیراعلیٰ اور ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی نے منگل 25 نومبر کو الیکشن کمیشن آف انڈیا اور بی جے پی پر براہِ راست حملہ کیا۔ بونگاﺅں میں منعقدہ ریلی میں انہوں نے الزام لگایا کہ الیکشن کمیشن اب غیرجانبدار ادارہ نہیں رہا بلکہ بی جے پی کمیشن بن گیا ہے۔

 ساتھ ہی بی جے پی کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر بنگال میں انہیں کمزور کرنے کی کوشش کی گئی تو وہ پورے ملک میں بی جے پی کی بنیاد ہلا دیں گی۔

ایس آئی آر کے تنازع پر مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے سخت ردِعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

نریندر مودی بھی 2024 کی ووٹر لسٹ کی بنیاد پر ہی منتخب ہوئے تھے،اگر یہی لسٹ غلط ہے تو ان کی انتخابی حیثیت بھی غلط قرار دی جانی چاہیے۔

 انتخابات سے دو ماہ پہلے جان بوجھ کر یہ سب کیا جا رہا ہے۔ 2016 میں، 2021 میں اور 2024 میں بھی آپ نے کوشش کی، مگر ہر بار ناکام رہے۔

اگر کوئی کہہ دے کہ وہ بنگلہ دیش سے آیا ہے اور بھارت کا شہری بننا چاہتا ہے، تو یہ لوگ اسے غیر قانونی قرار دے دیں گے۔ وہ کوئی مدد نہیں کریں گے۔

میں ووٹ کی سیاست نہیں کرتی، اس لیے صاف کہہ رہی ہوں،ڈرئیے مت، جب تک میں ہوں کوئی آپ کو ووٹر لسٹ سے نہیں ہٹا سکتا۔

ایس آئی آر کے تنازع پر مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے مرکز اور بی جے پی پر براہِ راست حملہ کیا۔

 انہوں نے کہابہار میں آپ کا کھیل پکڑا نہیں گیا، لیکن ہمیں بیوقوف بنانا آسان نہیں ہے۔

بنگال کو اتنا کنٹرول کرنے کی حسد کیوں ہے؟ آپ بنگال کو گجرات بنانا چاہتے ہیں لیکن یاد رکھیں،گجرات میں بھی بی جے پی ہارے گی، اسے میری پیشن گوئی سمجھ لیں۔

ویب ڈیسک Faiz alam babar.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ممتا بنرجی نے بی جے پی

پڑھیں:

عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران

پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش آنے والے واقعے پر اب تک معافی نہیں مانگی جبکہ وزیراعظم کو اپنے وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لینا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے اگلے وزیراعظم بلاول بھٹو زرداری، سینیٹر سحر کامران نے دعویٰ کیوں کیا؟

وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے سحر کامران نے بتایا کہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران انہوں نے وزارت اور متعلقہ سیکریٹری سے سوال کیا تھا کہ کمیٹی کے اجلاس میں تقریباً 12 ارب روپے مالیت کے 14 منصوبوں کی منظوری لی گئی تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ بجٹ میں 14 ارب روپے سے زائد مالیت کے 17 منصوبے منظور کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کا صرف یہ سوال تھا کہ وہ 3 اضافی منصوبے کون سے تھے جو قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش نہیں کیے گئے۔ ان کے بقول انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) سے متعلق بھی ایجنڈے کے مطابق چند سوالات کیے لیکن اسی دوران وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اونچی آواز میں گفتگو کرنے لگے جس سے انہیں شدید تضحیک کا احساس ہوا۔

سحر کامران کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس صورتحال پر واک آؤٹ کرنے کا فیصلہ کیا تاہم ان کے مطابق عطا اللہ تارڑ نے دوبارہ بلند آواز میں کہا کہ ’یہ ممبر کمیٹی کو ہائی جیک کرنا چاہتی ہیں‘، حالانکہ ان کے بقول انہوں نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا تھا۔

مزید پڑھیے: امریکا ایران مذاکرات، پیپلز پارٹی کا کردار پسِ منظر میں کیوں؟

رکن قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ عطا اللہ تارڑ کے رویے پر انہیں اعتراض ہوا ہو۔ ان کے مطابق اس سے قبل بھی ایک پارلیمانی سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے ان کے سوال کا متعلقہ جواب نہیں دیا تھا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے قومی اسمبلی میں اس معاملے کی نشاندہی کی تو عطا اللہ تارڑ نے جواب دیا کہ میرا یہی کام ہے کہ سوال جیسا بھی ہو جواب میں اپنی مرضی کا دیتا ہوں۔

سحر کامران نے سپیکر قومی اسمبلی کے رویے پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایوان میں جانبداری محسوس ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی ایک وفاقی وزیر کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کے ساتھ بھی نامناسب رویہ اختیار کیا گیا تھا۔

سحر کامران نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ وزرا کے رویے کا نوٹس لیں اور پارلیمانی روایات کے مطابق ارکان کے ساتھ احترام پر مبنی طرز عمل یقینی بنائیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ان کے بقول پارٹی آج بھی جمہوریت کے استحکام کی خاطر وفاقی حکومت کی اتحادی ہے تاہم اسی وجہ سے کابینہ کا حصہ نہیں بنی۔

مزید پڑھیں: عطا تارڑ کا بڑا ایکشن: واجبات کی ادائیگی تک نجی ٹی وی کے اشتہارات بند کا اعلان

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی ملک کے تمام صوبوں کے علاوہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی نمایاں نمائندگی موجود ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

رکن قومی اسمبلی سحر کامران سحر کامران کو عطا تارڑ سے شکایت وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ

متعلقہ مضامین

  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف