بھارت میں اسلاموفوبیا اور تاریخی اسلامی ورثے کی توہین، عالمی برادری نوٹس لے
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
اسلام آباد:(نیوزڈیسک)پاکستان نے عالمی براداری سے اپیل کی ہے کہ بھارت میں بڑھتی اسلاموفوبیا اور تاریخی اسلامی ورثے کی توہین پر نوٹس لیا جائے۔
دفتر خارجہ سےجاری بیان کے مطابق پاکستان نے ایودھیا میں تاریخی بابری مسجد کی جگہ تعمیر کیے گئے نام نہاد ’رام مندر‘ پر جھنڈا لہرانے کے واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے، بابری مسجد صدیوں قدیم عبادت گاہ تھی لیکن 6 دسمبر 1992 کو انتہا پسند ہجوم نے منہدم کیا، جنہیں فاشسٹ نظریات نے ہوا دی۔
بعد ازاں بھارت میں عدالتی کارروائیوں کے ذریعے ملزمان کو بری کیے جانے اور انہی کھنڈرات پر مندر کی تعمیر کی اجازت نے بھارتی ریاست کے اقلیتوں سے امتیازی سلوک کو واضح کر دیا ہے۔
دفترخارجہ نے بتایا کہ یہ واقعہ بھارت میں مذہبی اقلیتوں پر بڑھتے دباؤ اور مسلمانوں کے مذہبی و ثقافتی ورثے کو مٹانے کی منظم کوششوں کا حصہ ہے، جسے اکثریتی ہندو قوم پرست نظریے (ہندوتوا) کی پشت پناہی حاصل ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ بھارت میں متعدد دیگر تاریخی مساجد کو بھی اسی طرح کے خدشات کا سامنا ہے، بھارتی مسلمان معاشی، سماجی اور سیاسی میدانوں میں مسلسل حاشیے پر دھکیلے جا رہے ہیں۔
دفترخارجہ نے کہا کہ پاکستان کی عالمی برادری، خصوصاً اقوام متحدہ اور متعلقہ بین الاقوامی اداروں سے نوٹس لینے کی اپیل ہے کہ بھارت میں بڑھتی اسلاموفوبیا، نفرت انگیز تقاریر اور مسلمانوں پر حملوں کا سنجیدگی سے نوٹس لیں اور اسلامی ورثے کے تحفظ میں مؤثر کردار ادا کریں۔
بیان میں بھارت پر زور دیا گیا کہ وہ بین الاقوامی انسانی حقوق کی ذمہ داریوں کے تحت تمام مذہبی برادریوں، خصوصاً مسلمانوں کی سیکیورٹی یقینی بنائے اور ان کی عبادت گاہوں کا مکمل تحفظ کرے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :