شرجیل میمین نے کہا ہے کہ ملک بھر میں بلدیاتی اداروں کو سب سے زیادہ بااختیار پیپلز پارٹی نے بنایا ہے۔

تفصیلات کے مطابق شرجیل میمن نے ایم کیو ایم رہنما حیدر عباس رضوی کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایم کیو ایم والے زیادہ شور مچاتے ہیں تو ہم لاہور کا مقامی حکومتوں کا نظام کراچی میں لانے کو تیار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بلدیاتی نظام کے لئے پنجاب کی مثال دی جارہی ہے جہاں ابھی تک بلدیاتی انتخابات ہی نہیں ہوئے ہیں۔ کراچی سندھ کا دل اور ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ مجموعی طور پر اربوں روپے کا سرمایہ شہری انفراسٹرکچر اور بنیادی سہولیات میں لگایا جا رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سندھ حکومت کراچی میں شہری سہولیات اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی پر بھرپور کام کر رہی ہے، رکاوٹ ڈالنے کی کوششیں ناکام رہیں گی۔ کراچی جیسے کثیر الثقافتی شہر میں ہم آہنگی اور سماجی ترقی کو ایم کیو ایم کے سیاسی رویے نے نقصان پہنچایا۔

شرجیل میمن کا مزید کہنا تھا کہ شہری سہولتیں، بنیادی انفراسٹرکچر، تعلیم، صحت اور پانی و نکاسی کے نظام کی بہتری پر ایم کیو ایم اگر توجہ دیتی تو آج ہم پر انگلیاں نہیں اٹھائی جاتیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا کام بولتا ہے، کراچی میں اربوں روپے کے منصوبے جاری ہیں، ایم کیو ایم ان میں رکاوٹ ڈالنے کے لئے سرگرم ہے۔ ای وی بس سروس، پیپلز بس سروس، پنک بس سروس، شاہراہ بھٹو، تاج حیدر پل، پنک اسکوٹیز، بی آر ٹیز جیسے منصوبے ایم کیو ایم بھی شروع کر سکتی تھی لیکن ان کی نیت ہی نہیں تھی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ایم کیو ایم کہا کہ ایم کی

پڑھیں:

بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز

اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔

پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔

ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔

سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔

ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔

پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ

پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • حکمران ہم سے خوفزدہ، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، علیمہ خان
  • ہمیں پتہ ہے یہ ڈرے ہوئے ہیں، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، علیمہ خان
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • 5 جون تک پنجاب کے متعدد اضلاع میں آندھی، شدید ژالہ باری کا امکان، الرٹ جاری
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی