سندھ بلڈنگ، افسران کی نمائشی کارروائیوںسے غیرقانونی تعمیرات کو فروغ
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
بلاک جے سی 191پرغیر قانونی پیٹرول پمپ کے نمائشی انہدام کے بعد دوبارہ تعمیر
بلاک ٹی C9پر دکانیں اور کمرشل عمارت تعمیر ،افسران اور مافیا کے درمیان ملی بھگت
ضلع وسطی کے علاقے نارتھ ناظم آباد ٹاؤن کے رہائشی علاقوں میں ہونے والی غیرقانونی تعمیرات کے خلاف سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے اقدامات ’’نمائشی‘‘ثابت ہو رہے ہیں۔بلاک جے کے سی 191 پر واقع رہائشی پلاٹ پر پیٹرول پمپ کی غیرقانونی تعمیر کے خلاف گزشتہ ہفتے کی گئی کارروائی محض ’’دکھاوے ‘‘تک محدود رہی،زیر نظر تصاویر میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے عملے نے نمائشی توڑ پھوڑ آفس کی دیوار کے اوپری حصے میں کی۔خطیر رقم بٹورنے کے بعد پیٹرول پمپ کے ڈھانچے اور قائم دفتر کو انہدام سے محفوظ رکھا گیا،بعد ازاں محکمے کے افسران کی جانب سے ازسرنو تعمیر کی چھوٹ دی جا چکی ہے ۔مقامی رہائشیوں کے مطابق،یہ عمل اس بات کا غماز ہے کہ محکمہ کے افسران غیرقانونی تعمیرات روکنے کے بجائے ذاتی مفادات کے حصول کی خاطر انہیں فروغ دے رہے ہیں۔اسکے علاوہ بلاک ٹی کے (C-9) پر بھی تجارتی مقاصد کے عمارت کی تعمیر کا عمل جاری ہے ۔ایک منظم سازش کے تحت نارتھ ناظم آباد کے رہائشی پلاٹوں کو دکانوں اور کمرشل عمارتوں میں تبدیل کیا جا رہا ہے ، جس سے علاقے کا رہائشی تشخص ختم ، اور بنیادی ڈھانچہ متاثر ہو رہا ہے ۔شہریوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے افسران کی ’’نمائشی کارروائیوں‘‘کے بعد غیرقانونی تعمیرات کے مرتکبین کو دوبارہ تعمیر کی اجازت مل جاتی ہے ، جو محکمے اور تعمیرات کرنے والوں کے درمیان ملی بھگت کی عکاسی کرتی ہے ۔ مقامی افراد نے وزیر بلدیات سے مطالبہ کیا ہے کہ اس سلسلے میں اعلیٰ حکام تادیبی کارروائی کریں اور غیرقانونی تعمیرات کو ہمیشہ کے لیے بند کرایا جائے ۔اور ملوث افراد کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی عمل میں لائی جائے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: غیرقانونی تعمیرات سندھ بلڈنگ
پڑھیں:
وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) بجٹ سے چند روز قبل ہی آئینی عدالت سے حکومت کو ریونیو کی مد میں بڑا جھٹکا، وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی۔
نجی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق وفاقی آئینی عدالت نے غیر رجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ سپلائی کرنے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا۔ جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ جاری کیا۔
وفاقی آئینی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31 اے میں ابہام ہے، حکومت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈسپلائی کرنے پر مل مالکان پر اضافی ٹیکس عائد کیا، اضافی ٹیکس سال 2024 کے فنانس ایکٹ کی مد میں وصول کیا جا رہا تھا۔
لاہور ائیرپورٹ اغواء کیس کا ڈراپ سین، غیرملکی خاتون دوست کے ساتھ رضامندی سے گئی
فیصلے میں کہا گیا کہ قانون کے مطابق پولٹری فارمز کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے، قانون کے مطابق استثنی ملنے پر پولٹری فارمز رجسٹریشن کے پابند نہیں ہیں، قانون غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے۔
وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں مزید لکھا کہ رجسٹریشن کی قانونی پابندی نہ ہونے پر پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کو سزا نہیں دی جا سکتی۔
وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔ لاہور ہائیکورٹ نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا تھا۔ پولٹری فیڈ ملز مالکان نے اضافی ٹیکس کی وصولی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔
ڈیل مکمل جھوٹ ہے ، پی ٹی آئی کوئی ڈیل نہیں کررہی، عمران خان کو خاموش کروانے کے لیے قید تنہائی میں رکھاگیا ہے،علیمہ خان
مزید :