پاکستان ہندو کونسل کی بھارتی وزیر دفاع کے سندھ مخالف بیان کی مذمت
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251125-08-13
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان ہندو کونسل کی جانب سے بھارتی وزیر دفاع کے سندھ سے متعلق اشتعال انگیز بیان کی پرزور مذمت کی گئی ہے۔ سرپرست اعلیٰ پاکستان ہندو کونسل ڈاکٹر رمیش کماروانکوانی کا کہنا تھاکہ محب وطن پاکستانی ہندو کمیونٹی پاکستان کو اپنی دھرتی ماں سمجھتی ہے، بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کا بیان غیر ذمہ دارانہ ، اشتعال انگیز ، بچگانہ اور احمقانہ ہے۔ سندھ پاکستان کا حصہ ہے ، دنیا میں سرحدیں جذباتی نعروں یا تقریروں سے تبدیل نہیں ہوتیں، ہمیں فخر ہے کہ بٹوارے کے وقت قائداعظم کے کہنے پر ہمارے بڑوں نے نقل مکانی کا ارادہ ترک کیا۔ انہوں نے پاکستان ہندو کمیٹی کا حکومت سے بھارتی وزیردفاع کے بیان پر سفارتی سطح پر سخت نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ واضح رہے کہ بھارتی وزری دفاع راج ناتھ سنگھ نے اپنے اشتعال انگیز بیان میں کہا تھا کہ آج شاید سندھ کی سرزمین انڈیا کا حصہ نہیں لیکن تہذیبی طور پر سندھ ہمیشہ انڈیا کا حصہ رہے گا اور جہاں تک زمین کی بات ہے تو سرحدیں بدل سکتی ہیں کیا پتا کل کو سندھ پھر سے انڈیا میں واپس آجائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پاکستان ہندو
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔