WE News:
2026-07-24@07:08:46 GMT

دیوبند کا سب سے بڑا محسن : محمد علی جناح

اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT

یہ نہ کوئی جذباتی بات ہے نہ مبالغہ، یہ ایک ناقابل تردید تاریخی حقیقت ہے کہ دیوبند کے سب سے بڑے محسن قائد اعظم تھے۔ محترم ابوالکلام آزاد نے بھلے یہ بات اپنی پیش گوئیوں میں نہ لکھی ہو لیکن ایک وقت آئے گا دیوبند اس حقیقت کا اعتراف بھی کرے گا اور قائد اعظم کا شکریہ بھی ادا کرے گا۔

بہت کم لوگ اس حقیقت سے آگاہ ہوں گے کہ قائد اعظم نہ ہوتے تو 1894 میں پرائیوی کونسل کی جانب سے و قف علی الاولاد  کو فراڈ قرار دینے کے بعد مسلمانوں کے عام اوقاف کے لیے بھی خطرات پیدا ہو گئے تھے اور  آگے چل  کر دارالعلوم دیوبند  سمیت کسی بھی ایسے ادارے کا باقی رہنا ہی مشکل ہو جانا تھا جو وقف کے اسلامی اصول کے تحت قائم ہوا ہوتا۔

یہ بھی پڑھیں: آزادی رائے کو بھونکنے دو

 یہ قائد اعظم تھے جو اس برطانوی فیصلے کے خلاف کھڑے ہو گئے اور ایک طویل سیاسی ، قانونی اور پارلیمانی  جدوجہد کے بعد 1913 میں برطانوی امپیریل لیجسلیٹو کونسل سے باقاعدہ قانون سازی کے ذریعے  اس فیصلے کو کالعدم قراار دلواتے ہوئے مسلمانوں کے وقف کو قانونی تحفظ  فراہم کیا ۔

قائد اعظم کی یہ بہت بڑی کامیابی تھی۔ یہ اصل میں مسلمانوں کی کامیابی تھی۔  لیجسلیٹو کونسل میں ایک رکن نے قائد اعظم کو مبارک دیتے ہوئے کہا: جناح نے تاریخ رقم کر دی۔ یہ الگ بات کہ دیو بند کے اکابرین نے شاید ہی کبھی  اپنے طلبا کو یہ بتانے کی ضرورت محسوس کی ہو کہ دیوبند سمیت مسلم وقف کے تحت قائم ہزاروں اداروں کا ایک خاموش محافظ اور محسن تھا جس کا نام محمد علی جناح تھا۔

 پچھلے سال بھارت نے قائد اعظم کے بنوائے 1913 کے اسی قانون میں کچھ تبدلیاں کیں تو دیوبند کے  وائس چانسلر  نے اسے مسلمانوں کے مذہبی ورثے پر حملہ قرار دیا اور مدنی صاحب نے سپریم کورٹ جا کر کہا کہ اس قانون میں تبدیلی سے مسلمانوں کی مساجد باقی بچیں گی نہ دیگر مذہبی مقامات ۔ سوال یہ ہے کہ اگر قائد اعظم کے بنوائے گئے اس قانون میں تبدیلی مسلم ورثے پر حملہ ہے توقائد اعظم کو مسلمانوں کے مذہبی ورثے کا محافظ قرار دینے میں کیا  مسئلہ ہے؟ قائد اعظم کے بنوائے گئے قانون میں اگر صرف ترمیم سے ہی مدارس اور مساجد کو  اتنا خطرہ ہے تو ان مدارس اور مساجد کے تحفظ کی خاطر قائد اعظم کے اس تاریخی کردار کی تحسین کر لینے میں کون سی رکاوٹ ہے؟

مزید پڑھیے: تحریک انصاف کو نارمل زندگی کی طرف کیسے لایا جائے؟

 ایک اور پہلو اس سے بھی زیادہ دل چسپ اور اہم ہے ۔  قائد اعظم نے آگے چل کر پاکستان کی بنیاد رکھی ، کوئی مانے یا مانے ، لیکن حقیقت یہ ہے کہ  قائد اعظم کا پاکستان ، دیو بند کو  ابولکلام کے پاکستان سے زیادہ راس آیا۔

دیوبند سے وابستہ ایک گروہ قائد اعظم کے پاکستان  میں ہے جو اتنا معتبر ہے کہ قومی سیاست کا مرکز و محور ہے،  دوسری جانب دیوبند کا مرکز ابوالکلام کے ہندوستان میں ہے اور بے بسی کا یہ عالم ہے کہ سیاست سے ہی لاتعلق ہوا پڑا ہے۔  بہانہ یہ بنایا جاتا ہے کہ ہم صرف درس و تدریس تک محدود رہنا چاہتے ہیں۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ دیوبند تو بنیادی طور ایک سیاسی تحریک تھی، یہ غیر معمولی سیاسی تحریک ہندوستان میں سیاست سے لاتعلق ہوئی پڑی ہے۔ البتہ جناح کے پاکستان میں مولانا فضل الرحمن صاحب کی شکل میں یہ سیاست کا مرکز و محور ہے۔

ہندوستان میں دیوبند کو ہندتوا سے اتنا خطرہ ہے کہ وہ سیکولرزم کو ہی غنیمت سمجھ چکی ہے کہ ہندتوا کی بڑی برائی سے جان بچ جائے ، وہ ہم پر مسلط نہ ہو ، اس لیے ہندو شاؤنزم کے مقابلے میں سیکولرزم ہی اچھا ہےاور گوارا ہے۔ ادھر جناح کے پاکستان میں مولانا فضل الرحمن گرجتے بھی ہیں اور برستے بھی ہیں ، اسلام کی بات بھی کرتے ہیں اور کسی میں جرات نہیں کہ انہیں دیوار سے لگا سکے۔

ہندوستان کے دیو بند کی بے بسی یہ ہے کہ مولانا اردشد مدنی اب وائس چانسلروں کی تعنیاتی تک میں محرومی اور زیادتی کے شکوے کرنے پر مجبور ہیں ، لیکن جناح کے پاکستان میں دیوبند والوں کی شان یہ ہے کہ مولانا  فضل الرحمن کے تیور بگڑ جائیں تو ساری قومی سیاست ان کے در دولت پر حاضر ہو جاتی ہےاور اس وقت بھی وہ قائد حزب اختلاف کے منصب کے لیے موزوں ترین انتخاب تصور کیے جا رہے ہیں۔

جو پاکستان بنانے کے ’گناہ‘ میں شریک نہ تھے پاکستان نے انہیں دل سے لگایا اور فیصلہ سازی کے رتبے پر بٹھا لیا ۔ جو متحدہ ہندوستان کے ’ثواب‘ کماتے رہے وہ اب بے بسی کے عالم میں شکوہ کناں ہیں کہ ہمارا مسلمانوں کا تو اب کوئی وائس چانسلر بھی نہیں بن سکتا۔

 ایک عذر یہ پیش کیا جاتا ہے کہ ابوالکلام کے دیس میں ہندو مسلمان بھائی بھائی بن کر رہنے تھے لیکن جناح نے الگ ملک بنا  کر بھارت کے مسلمانوں کے لیے مسائل کھڑے کر دیے اور یوں ابولکلام کا خواب پورا نہ ہو سکاا۔ ۔ قائد اعظم کا ساتھ نہ دینے والوں کی بے بصیرتی کے علاوہ اس موقف میں کچھ بھی نہیں۔

مزید پڑھیں: کیا عدلیہ کو بھی تاحیات استثنی حاصل ہے؟

ہندوؤں کا غصہ صرف قیام پاکستان پر نہیں تھا، انہوں نے مسلمانوں سےصدیوں کے بدلے چکانے تھے۔ پاکستان نہ بھی بنتا تو ہندو شاؤنزم نے یہی کچھ کرنا تھا بلکہ زیادہ بے رحمی سے کرنا تھا۔ 1857 کی جنگ آزادی کے بعد ہندوؤں نے انگریز کا ساتھ اسی نفرت اور کدورت کے تحت دیا اور اسی نفرت کا مسلسل مشاہدہ کرنے کے بعد  قائد اعظم کو االگ ملک کا مطالبہ کرنا پڑا ورنہ وہ تو خود ایک زمانے میں ہندو مسلم اتحاد کے سفیر کہلاتے تھے۔  یہ قائد اعظنم کی بصیرت تھی کہ جس ہندو شائونزم کی دیوبند کو ابھی تک سمجھ نہیں آ رہی وہ اسے عشروں قبل جان گئے تھے۔

ابولکلام آزاد نے بھلے یہ ییش گوئی نہ کی ہو لیکن دیو بند کو ایک نہ ایک دن یہ بات ماننا پڑے گی کہ انہیں جناح کا پاکستان زیادہ راس آیا۔ ایک وقت آئے گا وہ اپنے اس محسن کا شکریہ ادا کریں گے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آصف محمود

آصف محمود انگریزی ادب اور قانون کے طالب علم ہیں۔ پیشے سے وکیل ہیں اور قانون پڑھاتے بھی ہیں۔ انٹر نیشنل لا، بین الاقوامی امور، سیاست اور سماج پر ان کی متعدد کتب شائع ہوچکی ہیں۔

دیوبند قائد اعظم ہندتوا ہندو ہندو شاؤنزم.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: دیوبند ہندتوا قائد اعظم کے مسلمانوں کے کے پاکستان یہ ہے کہ دیو بند بند کو کے لیے کہ دیو کے بعد

پڑھیں:

مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج

طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔

اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔

دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔

انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔

اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • بالآخر بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے بھی مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج