ملک بھر میں کنٹونمنٹس بورڈز کی مدت مکمل؛ نئے الیکشن کی تیاریاں
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
ملک بھر کے کنٹونمنٹس بورڈ میں منتخب ممبران کی مدت مکمل ہوگئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق 44 میں سے 37 کنٹونمنٹس بورڈ کے وائس پریذیڈنٹس منتخب ممبران کے اختیارات ختم ہوگئے ہیں۔
الیکشن کمیشن شیڈول پر اب ان کنٹونمنٹس میں نئے بلدیاتی الیکشن ہونگے۔ نئے الیکشن تک اب ہر کنٹونمنٹ بورڈ میں دو رکنی نامزد کئیر ٹیکر بورڈ کام کرے گا جبکہ دو رکنی کئیر ٹیکر بورڈ میں ایک نامزد سویلین ایک نامزد فوجی ممبر ہوگا۔
علاوہ ازیں کنٹونمنٹس ایگزیکٹیو آفیسرز سے کئیر ٹیکر بورڈ کے لیے نام طلب کرلیے گئے ہیں۔ کئیر ٹیکر بورڈ کے لیے نام 26 نومبر کو دفتری اوقات ختم ہونے سے پہلے ریجنل ڈائریکٹر ایم ایل سی کو فراہم کرنے ہونگے ۔
منتخب ممبران کی آخری بورڈ میٹنگ کے بعد کے فیصلے کئیر ٹیکر بورڈ کے سامنے پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ کئیر ٹیکر بورڈ کا نامزد سویلین ممبر کنٹونمنٹ الیکشن میں حصہ نہیں لے سکے گا۔
یہ فیصلے ڈائریکٹر جنرل ایم ایل سی کی زیر صدارت اعلی سطحی اجلاس میں کیے گئے۔ چار سال قبل کنٹونمنٹس بورڈ کے جماعتی بنیاد پر بلدیاتی الیکشن کروائے گئے تھے۔ 44 میں سے 37 کنٹونمنٹس بورڈ کے منتخب ممبران کی مدت اکتوبر 2025 کو مکمل ہوئی ۔
تاہم 7 کنٹونمنٹس بورڈ کی مدت کے مکمل ہونے کا ابھی تعین ہونا باقی ہے۔ منتخب ممبران کی چار سالہ مدت کا تعین حلف اٹھانے کی تاریخ سے کیا جاتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: منتخب ممبران کی کنٹونمنٹس بورڈ کئیر ٹیکر بورڈ بورڈ کے کی مدت
پڑھیں:
خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 02 جون2026ء) پاکستان ریلویز نے خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل ہونے کے بعد ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا ہے۔ریلوے حکام کے مطابق سابق ڈویژنل انجینئر(ڈی ای این)ملتان عابد رزاق کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے جبکہ سابق اسسٹنٹ انجینئر (اے ای این)خانیوال راجا یوسف کو بھی سروس سے برخاست کر دیا گیا ہے۔یاد رہے کہ خانیوال پل حادثے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔ واقعے کے بعد وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ عوامی جانوں کے نقصان پر کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔وزیر ریلوے کی ہدایت پر حادثے کی جامع انکوائری شروع کی گئی تھی۔(جاری ہے)
انکوائری رپورٹ میں متعلقہ افسران کی غفلت اور ذمہ داری کا تعین کیا گیا جس کی روشنی میں محکمانہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔
ریلوے حکام کے مطابق وفاقی وزیر ریلوے اپنے زیرو ٹالرنس مقف پر قائم رہے اور حادثے کا کیس منطقی انجام تک پہنچایا گیا۔ وزارت ریلوے کا کہنا ہے کہ احتساب کا عمل جاری رہے گا اور غفلت، لاپروائی یا نااہلی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مسافروں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور ذمہ دار عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔