وزیر خزانہ کی زیر صدارت اجلاس، اہم سرکاری اداروں میں کلیدی تعیناتیوں اور بورڈز کی ازسرِنو تشکیل کی منظوری
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
وزیر خزانہ کی زیر صدارت اجلاس، اہم سرکاری اداروں میں کلیدی تعیناتیوں اور بورڈز کی ازسرِنو تشکیل کی منظوری WhatsAppFacebookTwitter 0 24 November, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)سرکاری ملکیتی اداروں کے بارے میں کابینہ کی کمیٹی نے اہم سرکاری اداروں میں کلیدی تقرریوں اور بورڈز کی ازسرِنو تشکیل کی منظوری دیدی۔ترجمان وزارت خزانہ کے مطابق سرکاری ملکیتی اداروں کے بارے میں کابینہ کی کمیٹی کااجلاس وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیرِ صدارت منعقد ہوا۔
اجلاس میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی وخصوصی اقدامات احسن اقبال، وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی خالد حسین مگسی، متعلقہ وزارتوں، ڈویژنز اور ریگولیٹری اداروں کے سیکریٹریز اور سینئر افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران فنانس ڈویژن، میری ٹائم افیئرز ڈویژن، پیٹرولیم ڈویژن اورصنعت و پیداوار ڈویژن کی جانب سے پیش کردہ سمریوں پر غور کیا گیا اور پیش کیے گئے۔ایجنڈا آئٹمز کی منظوری دی گئی جن میں فنانس ڈویژن کی جانب سے زرعی ترقیاتی بینک لمیٹڈ کے بورڈ کے لیے ایک آزاد ڈائریکٹر کی تقرری،میری ٹائم افیئرز ڈویژن کی تجویز پر پورٹ قاسم اتھارٹی کراچی کے بورڈ میں آزاد ڈائریکٹرز کی تقرری اور پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ کے بورڈ میں ایک خالی نشست کو پر کرنے کے لیے نامزدگی شامل تھی۔
اجلاس میں صنعت وپیداورڈویژن کی تین سمریوں کی بھی منظوری دی گئی، جن میں سندھ انجینئرنگ (پرائیویٹ)لمیٹڈ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تشکیل، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی سمیڈا کے بورڈ میں پنجاب سے ایک نجی شعبے کے رکن کی تقرری اور اسٹیٹ انجینئرنگ کارپوریش کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تشکیل شامل ہے۔وزیرخزانہ نے نجی شعبے سے آزاد ڈائریکٹرز کے لیے موزوں امیدواروں کے انتخاب میں اختیار کی گئی محنت اور سنجیدگی کو سراہا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس کڑے انتخابی عمل کو جاری رکھنا ضروری ہے تاکہ ایسے افراد کو ان اداروں اور دیگر سرکاری کمپنیوں کے گورننگ بورڈز میں شامل کیا جائے جو مطلوبہ تجربہ، مہارت، علم اور پیشہ ورانہ اہلیت کے حامل ہوں۔کمیٹی نے فنانس ڈویژن اور نجکاری ڈویژن کو یہ بھی ہدایت کی کہ وہ نجکاری کے لیے منتخب شدہ سرکاری اداروں کے زیرِ التوا مقدمات کا جامع جائزہ، تشخیص اور تجزیہ کریں اور متعلقہ وزارتوں اور لاڈویژن کے ساتھ رابطہ کر کے ایسے طریقہ کار کی نشاندہی کریں جو ان مسائل کے حل کو آسان بنا سکیں تاکہ نجکاری کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے آگے بڑھ سکے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرعوام نے تخریبی سیاست مسترد کرکے کردیا خوشحالی کو چن لیا، نواز شریف کی ضمنی انتخابات میں کامیابی پر مبارک باد عوام نے تخریبی سیاست مسترد کرکے کردیا خوشحالی کو چن لیا، نواز شریف کی ضمنی انتخابات میں کامیابی پر مبارک باد یہ الیکشن نہیں ریفرنڈم تھا، اب فیض حمید ہے اور نہ وہ جج جو پی ٹی آئی کو جتواتے تھے، قیدی نمبر 804کو گھر... وزیرِ اعظم شہباز شریف سے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا کی الوداعی ملاقات ملک میں عدلیہ کی آزادی، شہری حقوق اور عوام کی سلامتی خطرے میں ہے، ہیومن رائٹس کمیشن پاکستان رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی کے 20ویں کنوکیشن میں 2,860 طلبہ کو ڈگریاں دی جائیں گی۔ فلسطینی طلبہ بھی موجود پاکستان میں پہلی بار عالمی مقابلہ حُسن قرات کا انعقاد
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: سرکاری اداروں اداروں کے کی منظوری ڈویژن کی کے بورڈ کے لیے
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔