اسلام آباد(ڈیلی  پاکستان آن لائن) اوگرا کے ترجمان نے کہا ہے کہ حالیہ تعین کے مطابق گیس کی قیمتوں میں کسی قسم کے اضافے کی منظوری نہیں دی گئی۔

نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق ترجمان اوگرا نے وضاحت کی کہ گیس قیمتوں کے تعین کے بارے میں غلط تاثر پیش کیا ہے، قیمتوں میں رد و بدل کی کوئی ضرورت پیش نہیں آئی۔

انہوں نے بتایا کہ اوگرا کی جانب سے مالی سال 2025-26 کے لیے طے کردہ ریونیو ضروریات کو ایس این جی پی ایل اور ایس ایس جی سی ایل کے موجودہ نیٹ ورک سے حاصل ہونے والی آمدن پورا کر رہی ہے، قیمتوں میں ردوبدل نہیں ہوا۔

9 مئی سمیت دیگر 5 مقدمات: بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی گرفتاری سے روک دیا گیا  

واضح رہے کہ اس سے پہلے میڈیا کو رپورٹس ملی تھیں کہ اوگرا نے رواں مالی سال کیلئے گیس کی اوسط قیمتوں میں7.

14 فیصد تک اضافے کی منظوری دے دی ہے۔

آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی کے مطابق سوئی ناردرن کے لئے گیس کی قیمت 1852 روپے80 پیسے فی ایم ایم بی ٹی یو کر دی گئی، سوئی سدرن کے لئے گیس کی قیمت 1777 روپے 2 پیسے فی ایم ایم بی ٹی یو کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔

اس سے قبل اوگرا نے گیس کی قیمتوں میں اوسط 8 فیصد تک کمی کا دعویٰ کیا تھا تاہم اب اوگرا حکام نے واضح کیا کہ رواں مالی سال کے لئے گیس کی قیمتوں میں کمی نہیں اضافے کی منظوری دی گئی ہے۔
 

بھارتی آبی جارحیت سے نمٹنے کیلئے دریائے چناب پر ڈیم بنانے کا فیصلہ

مزید :

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: گیس کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری

پڑھیں:

عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ

اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔

تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔

ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔

تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔

پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟

توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی
  • سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں پھر سے اضافہ
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ