عوام کو ریلیف دینے کا دعویٰ غلط ثابت؛ اوگرا نے گیس مزید مہنگی کردی
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: ملک بھر کے گیس صارفین کے لیے حکومت اور ریگولیٹر کی جانب سے ریلیف کے دعوے ایک بار پھر محض زبانی جمع خرچ ثابت ہوئے ہیں اور اوگرا کے نوٹیفکیشن نے واضح کر دیا ہے کہ گیس کی قیمتوں میں کمی نہیں بلکہ نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ادارے نے چند روز قبل میڈیا کو جاری کردہ اعلامیے میں اوسطاً 8 فیصد کمی کا دعویٰ کرکے عوام کو خوش خبری سنائی تھی، تاہم سرکاری دستاویزات نے حقیقت سے پردہ اٹھا دیا ہے کہ ریلیف کے نام پر دراصل صارفین کے بلوں میں بھاری اضافہ کیا جا رہا ہے، جس کا اطلاق رواں مالی سال کے دوران ہوگا۔
دستاویزات کے مطابق سوئی سدرن گیس کمپنی کے لیے گیس نرخوں میں 118 روپے 47 پیسے فی ایم ایم بی ٹی یو اضافہ منظور کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں قیمت بڑھ کر 1777 روپے 02 پیسے تک پہنچ جائے گی۔ یہ اضافہ مجموعی طور پر 7.
اسی طرح سوئی ناردرن کے نرخ بھی بڑھا دیے گئے ہیں، جن میں 86 روپے 30 پیسے فی ایم ایم بی ٹی یو اضافہ شامل ہے۔ اس اضافے کے بعد سوئی ناردرن کی نئی قیمت 1852 روپے 80 پیسے مقرر کر دی گئی ہے، جو 4.89 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
اعدادوشمار سے واضح ہے کہ دونوں کمپنیوں کے صارفین پر بوجھ کم کرنے کے بجائے مزید بڑھا دیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ اوگرا نے سابقہ شارٹ فال کی مد میں گیس کمپنیوں کے لیے 60 ارب 88 کروڑ روپے کی ایڈجسٹمنٹ کی بھی اجازت دے دی ہے، جو مستقبل میں مزید مالی اثرات مرتب کرے گی۔
شارٹ فال ایڈجسٹمنٹ کا مطلب ہے کہ کمپنیوں کو اپنے نقصانات پورے کرنے کے لیے صارفین سے اضافی رقوم وصول کرنے کی اجازت مل گئی ہے، جس سے یہ خدشہ مزید بڑھ گیا ہے کہ آئندہ مہینوں میں گیس بلوں میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ موجودہ معاشی صورتحال میں گیس، بجلی اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے نے متوسط اور غریب طبقے کی کمر توڑ دی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔