data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

آج کے ڈیجیٹل دور میں جب ہر شخص اپنی نجی معلومات، تصاویر، مالی لین دین اور روزمرہ رابطوں کے لیے آن لائن سسٹمز پر انحصار کرتا ہے، وہاں پاس ورڈ ایک ایسی بنیادی حفاظتی دیوار ہے جس کی مضبوطی پر ہی صارف کی پرائیویسی اور ڈیٹا کی سلامتی قائم ہوتی ہے۔

تازہ تحقیقی رپورٹ نے اس حوالے سے نوجوان نسل کے رویّے پر سنگین سوالات کھڑے کردیے ہیں۔ اگرچہ عمومی تاثر یہ ہے کہ جین زی ٹیکنالوجی میں سب سے آگے ہے، مگر رپورٹ نے بتایا کہ یہ نسل پاس ورڈ کے انتخاب میں نہایت لاپروائی کا مظاہرہ کررہی ہے، بلکہ ان کے منتخب کردہ پاس ورڈز اتنے غیر محفوظ ہیں کہ انہیں سیکنڈوں میں توڑا جاسکتا ہے۔

ٹیکنالوجی سے وابستہ اداروں کے مطابق پاس ورڈ مینیجمنٹ ٹولز تیار کرنے والی ایک بڑی کمپنی نے ہزاروں صارفین کے استعمال شدہ پاس ورڈز کا جائزہ لیا اور نتیجہ یہ نکلا کہ نوجوان طبقے کی اکثریت اب بھی ’12345‘ یا ’123456‘ جیسے پاس ورڈز استعمال کر رہی ہے۔

حیرت انگیز طور پر جب انہیں مزید ہندسوں کا انتخاب کرنا پڑتا ہے تو وہ بھی سیدھی ترتیب میں ایک سے سات یا ایک سے نو تک کے نمبروں کو ملا کر پاس ورڈ بنالیتے ہیں۔ ماہرین اسے سب سے کمزور اور خطرناک طرزِ عمل قرار دے رہے ہیں، کیونکہ ایسے پاسورڈز عام ہیکنگ سافٹ ویئر کے ذریعے چند لمحوں میں ٹوٹ سکتے ہیں۔

تحقیق میں شامل ماہرین کا کہنا ہے کہ 1997 کے بعد پیدا ہونے والے افراد اپنی یادداشت پر کم بھروسا کرتے ہیں اور اس وجہ سے غیر پیچیدہ، آسان اور یاد رہ جانے والے پاسورڈز کا انتخاب کرتے ہیں جو درحقیقت انہیں ہیکرز کا آسان شکار بنا دیتا ہے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ سابقہ نسلیں، خصوصاً 1946 سے 1964 کے درمیان پیدا ہونے والے لوگ بھی یہی نمبرز استعمال کرتے تھے، مگر اُس دور میں ٹیکنالوجی کی رفتار، ڈیٹا کی نوعیت اور ہیکنگ کے ہتھکنڈے اتنے پیچیدہ نہیں تھے، اسی لیے ان پاس ورڈز کو اُس وقت نسبتاً محفوظ تصور کیا جاتا تھا۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ آگاہی مہمات، میڈیا کمپینز اور مختلف پلیٹ فارمز پر چلائے جانے والے سیکورٹی الرٹس کے باوجود نوجوانوں نے اپنی پاس ورڈ عادات میں خاطر خواہ تبدیلی نہیں کی۔ اگرچہ کچھ صارفین نے غیر روایتی ہندسوں، علامات اور بڑے حروف کے امتزاج سے نئے پاس ورڈز تشکیل دینے کی کوشش کی ہے، لیکن ان کی تعداد اب بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔

تحقیق میں امریکا، جاپان، جرمنی، فرانس اور برطانیہ جیسے ترقی یافتہ ممالک کے ہزاروں افراد کا ڈیٹا شامل تھا جن میں زیادہ تر جین زی شامل تھے، اور ان سب کا رجحان تقریباً ایک جیسا پایا گیا۔

ماہرین نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ نئے دور کی نوجوان نسل پاس ورڈ کے بجائے بائیومیٹرک سیکورٹی، پاس کیز، فیس آئی ڈی، فنگر پرنٹ اور ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن جیسے جدید حفاظتی طریقے استعمال کر رہی ہے، جس سے ان کے اکاؤنٹس کے براہِ راست ہیک ہونے کے امکانات کم ہوجاتے ہیں، تاہم کمزور پاس ورڈ کا استعمال اب بھی ایک سنگین کمزوری ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پاس ورڈز پاس ورڈ

پڑھیں:

پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ

اسلام آباد:

پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کردی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی پر اجلاس ہوا جس میں ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔

اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر تعلیم خالد مقبول، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔

وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025ء میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026ء میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی، موبائل اسپیکٹرم میں اضافے سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔

وزیراعظم کو "کنیکٹ پاکستان وژن 2030ء " کے اجراء کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، بتایا گیا ہے کہ باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، جون 2026ء تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دئیے گئے، حکومتی اقدامات کی بدولت پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں ہوئی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1164.7 ملین ڈالر رہا۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے تحت حکومت پاکستان کی 130 سروسز کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے، پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس دیئے گئے جن میں 5053 ہائے اینڈ تربیتی پروگرام منعقد ہوئے ؛ لیڈرشپ اور سافٹ اسکلز کی 2700 ٹرینینگز کا انعقاد ہوا، ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کے منصوبہ کا افتتاح جلد ہی ہوگا۔

وزیراعظم کو بتایا گیا کہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت وفاقی حکومت کی کئی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کی نفاذ اور اس حوالے سے کئی منصوبے اور تربیتی سیشنز منعقد کئے جا رہے ہیں۔

بتایا گیا کہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، وزارت ریلوے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، وزارت قومی غذائی تحفظ ، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو، وزارت قومی غذائی تحفظ، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان پوسٹ، وفاقی ترقیاتی ادارہ، وزارت بحری امور اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں علی بابا مصنوعی ذہانت کے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔

وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تمام ٹیم کی پذیرائی کی۔

وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے لئے جانے والے اقدامات پالیسیوں کا ثمر ہے، ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، آئی ٹی کے شعبے میں دیئے جانے والے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔

وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔

متعلقہ مضامین

  • موبائل سم صار فین ہوشیار ، پی ٹی اے کا اہم انتباہ جار ی
  • پیٹرول کی قیمتیں روزانہ بدلنے کا نظام، عوام خوش یا پریشان؟
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی