بیمار ہونے کے بعد سب سے پہلا کام کیا کرنا چاہیئے؟
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بدلتا ہوا موسم اور کام کی زیادتی اکثر اوقات ہمیں بیمار کرنے کا سبب بھی بن سکتی ہے۔بیمار ہونے کی صورت میں سب سے پہلا کام کیا سرانجام دینا چاہیئے اس حوالے سے مختلف رائے پائی جاتی ہیں۔بعض افراد کا خیال ہے کہ بیماری کی علامت محسوس ہوتے ہی فوراً دوا لے لینی چاہیئے تاکہ بیماری شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہوجائے۔امریکی ماہرین اس کی جگہ کچھ اور ترکیب بتاتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بیماری محسوس ہونے کی صورت میں آپ کو دوا لینے کے بجائے بستر پر لیٹ کر آرام کرنا چاہیئے۔بین الاقوامی جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق اس کا تجربہ 10، 10 افراد پہ مشتمل دو گروہوں پر کیا گیا۔ ایک گروہ کے افراد کو نصف رات تک جاگنے کو کہا گیا جبکہ دوسرے گروہ کے افراد نے معمول کے مطابق اپنی نیند پوری کی۔بعدازاں ماہرین نے ان کے قوت مدافعت کے خلیات (ٹی سیلز) کا تجزیہ کیا جس سے معلوم ہوا کہ وہ افراد جنہوں نے اپنے نیند پوری کی ان کے خلیات نے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا جس کے نتیجے میں ان میں بیماری سے لڑنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوا۔اس کے برعکس ایسے افراد جن کی نیند پوری نہیں ہوئی ان کے ٹی سیلز اتنے فعال نہیں تھے کہ بیماری کے جراثیم کا مقابلہ کرسکیں نتیجتاً ان کی بیماری میں شدت پیدا ہونے کا امکان بڑھ گیا۔ماہرین کی تجویز ہے کہ بیماری محسوس ہونے کی صورت میں دوا لینے سے قبل کچھ وقت آرام کرنا چاہیئے، اس کے بعد بھی اگر بیماری برقرار ہو تو اس صورت میں ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کرنا چاہیئے کہ بیماری
پڑھیں:
بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
اسلام آباد: بجلی کی قیمت میں اضافہ ایک بار پھر زیر غور آ گیا ہے، کیونکہ اپریل 2026 کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی گئی ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ہونے والی سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے دوران خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث توانائی کے شعبے کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہا، جس کے اثرات بجلی کی پیداوار پر بھی مرتب ہوئے۔
سی پی پی اے کے مطابق اپریل میں درآمدی ایل این جی کی دستیابی نہ ہونے کے برابر تھی، تاہم مئی کے آغاز میں ایل این جی کے معاہدہ شدہ اور اسپاٹ کارگوز موصول ہونے کے بعد ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کو دوبارہ فعال کیا گیا، جس سے نظام میں بہتری آئی۔
حکام نے نیپرا کو آگاہ کیا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تقریباً تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ آئندہ دو ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے تاکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
سی پی پی اے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ بجلی کی قیمت میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے، تاہم مئی، جون اور جولائی کی فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو بڑے اضافی بوجھ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ضروری انتظامات اور ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنایا جا چکا ہے۔
اب نیپرا درخواست پر تمام فریقین کا مؤقف سننے کے بعد حتمی فیصلہ جاری کرے گا، جس کے بعد یہ طے ہوگا کہ صارفین کو بجلی کے بلوں میں کتنا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔