Islam Times:
2026-06-03@06:58:08 GMT

غزہ منصوبہ، امریکی قرارداد کا آپریشن

اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT

غزہ منصوبہ، امریکی قرارداد کا آپریشن

اسلام ٹائمز: امریکہ کو سلامتی کونسل کی قراردادوں کے باوجود افغانستان سے نکلنا پڑا، عراق سے بھی نکلنے کی تیاری کر رہا ہے۔ امید یہی ہے کہ غزہ میں بھی اسے دس برس بعد ایسی ہی صورتحال کا سامنا ہوگا۔ میں نے جن دو مثالوں کا تذکرہ کیا، یہ دونوں اقوام متحدہ کی رکن ریاستیں ہیں، جبکہ فلسطین ایک مبصر رکن ہے۔ حالات ایک جیسے نہیں ہیں، تاہم اصل فیصلہ کن قوت عوام ہوتے ہیں۔ افغانستان اور عراق میں حتمی فیصلہ بہرحال عوام نے ہی کیا، فلسطین میں بھی عوام ہی یہ فیصلہ کریں گے۔ میرے خیال میں فلسطین کا دو ریاستی حل مزید دس سال آگے چلا گیا ہے، جب امن منصوبہ تاریخ کا حصہ بن جائے گا، اس وقت فلسطینی تو ہوں گے، مگر ریاست نہیں ہوگی۔ امید پر دنیا قائم ہے، فلسطینیوں اور بالخصوص اہل غزہ کو مایوس نہیں ہونا چاہیئے، خدا بہتر جانتا ہے کہ کب فرعون کے محل سے موسیٰ کو نکالے، جو فرعون کی فرعونیت کو دریائے نیل میں غرق کر دے۔ تحریر: سید اسد عباس

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے 17 نومبر2025ء کو غزہ کے لیے صدر ٹرمپ کے پیش کردہ 20 نکاتی منصوبے کے حق میں قرارداد منظور کی، جس کی پندرہ میں سے تیرہ ممالک جن میں پاکستان بھی شامل ہے، نے حمایت کی۔ شاید دوسرا مسلم ملک الجیریا تھا، باقی اراکین مغرب اور افریقی ممالک کے تھے۔ قرارداد S/RES/2803 (2025) سلامتی کونسل کی بائنڈنگ قرارداد ہے، جس پر رکن ممالک کے لیے عمل کرنا لازم ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اقوام متحدہ کی قراردادیں دو اداروں سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کے تحت منظور ہوتی ہیں۔ سلامتی کونسل کے تحت منظور ہونے والی قراردادیں بالخصوص باب ہفتم کے تحت منظور ہونے والی قراردادیں زیادہ طاقتور ہوتی ہیں۔ اس کی مثالیں عراق کے خلاف خلیج جنگ اور نائن الیون کے بعد دہشتگردی کے خلاف جنگ کی قراردادیں ہیں۔

سلامتی کونسل کی قراردادوں کی دوسری قسم نان بائنڈنگ قراردادیں ہیں۔ یہ قراردادیں تنازعات کے پرامن حل، مذاکرات، ثالثی وغیرہ سے متعلق ہوتی ہیں اور قانونی طور پر لازمی نہیں ہوتیں، مگر ان کا سیاسی اثر ہوتا ہے۔ یوم کپور کی جنگ بندی کی قرارداد، عرب اسرائیل جنگ کے بعد "زمین کے عوض امن" کا اصول یہ قراردادیں اگرچہ بائنڈگ نہیں تھیں، تاہم عالمی سفارت کاری کی بنیاد بنیں۔ سلامتی کونسل کی قراردادوں کی تیسری قسم امن فورسز یا امن مشن کے قیام سے متعلق ہے، جیسے کوسوو میں امن فورس کی تعیناتی، دنیا بھر میں امن مشنز کی تعیناتی۔ سلامتی کونسل کی قراردادوں کی چوتھی قسم کسی خطے میں براہ راست بین الاقوامی نگرانی یا عبوری نظام کے قیام سے متعلق ہوتی ہیں۔ مشرقی تیمور میں اقوام متحدہ کی سرپرستی میں حکومت کا قیام، عراق میں امریکی قبضے کے بعد کا عبوری انتظام اسی قسم کی قرارداد کی مثالیں ہیں۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قراردادوں کی بھی مختلف اقسام ہیں، اعلامیہ یا اصولی قرارداد، جیسے عالمی انسانی حقوق کی بنیادی دستاویز، بجٹ یا انتظامی قرارداد، سیاسی قرارداد، جیسے فلسطین کو غیر رکن مبصر ریاست کا درجہ دینا، روس کے یوکرائن پر حملے کی مذمت۔ فلسطین پر جنرل اسمبلی کی اکثر قراردادیں غیر بائنڈنگ ہیں، یعنی ان پر عملدرآمد قانونی طور پر لازم نہیں ہے۔ فلسطین کے معاملے میں امریکا کی وجہ سے تقریباً کوئی ایسی قرارداد منظور نہیں ہوسکی، جو Chapter VII کے تحت ہو، یعنی قانونی طور پر لازمی طور پر نافذ العمل ہو۔ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کی قراردادیں بھی اگرچہ سلامتی کونسل کی قراردادیں ہیں، تاہم یہ قراردادیں باب ششم کے تحت منظور ہوئی ہیں، جس کے سبب ان کی حیثیت سیاسی ہے، یہ بائنڈنگ نہیں ہیں۔

سلامتی کونسل میں باب ہفتم کے تحت فلسطین پر امریکا کی جانب سے منظور کروائی جانے والی پہلی اور اکلوتی قرارداد S/RES/2803 (2025) ہی ہے، جو ٹرمپ کے امن منصوبے کے نفاذ کو لازم قرار دیتی ہے۔ سلامتی کونسل کے کسی مستقل رکن نے اس قرارداد کو ویٹو نہیں کیا، چین اور روس نے بھی قرارداد پر اعتراض کیا اور ووٹنگ میں شرکت نہیں کی، جس کے سبب یہ قرارداد اقوام متحدہ میں منظور ہوگئی۔ پاکستان کے پاس بھرپور موقع تھا کہ وہ اس قرارداد کے حوالے سے اپنی رائے کا اظہار کرتا۔ پاکستانی مندوب کے مطابق انھوں نے قرارداد پر اپنے تحفظات کا اظہار بھی کیا ہے، تاہم اس کے باوجود قرارداد کو اکثریت رائے سے منظور بھی کروایا۔ سلامتی کونسل کی مذکورہ غزہ امن منصوبہ قرارداد جو باب ہفتم کے تحت منظور ہوئی ہے اور عملی نفاذ کو تمام رکن ممالک پر لازم قرار دیتی ہے، میں (International Stabilization Force – ISF) کو غزہ میں تعیناتی کے لیے قانونی اجازت دی گئی ہے۔

یعنی، یہ فورس "منظور شدہ" ہے اور اسے سلامتی کونسل نے اپنا مینڈیٹ دیا ہے، تاکہ وہ مخصوص اہداف (جیسے سکیورٹی، غیر مسلح کاری، شہری تحفظ) کے لیے کام کرے۔ یہ قرارداد غزہ کے لیے ایک عبوری انتظامیہ، یعنی Board of Peace کو تسلیم کرتی ہے اور اسے قانونی حیثیت دیتی ہے۔ یہ بورڈ نہ صرف نگرانی کرے گا بلکہ اسے انتظامی اور سکیورٹی ڈھانچوں کے تحت کام کرنے کا اختیار ہوگا۔ قرارداد میں یہ طے کیا گیا ہے کہ یہ انتظامی اور سکیورٹی ڈھانچے 31 دسمبر 2027ء تک مؤثر رہیں گے، مگر سلامتی کونسل آئندہ کارروائی (فالو اپ) کے لیے ایک جائزہ لے سکتی ہے۔ بورڈ آف پیس کو ہر چھ ماہ بعد کونسل کو اپنی پیش رفت کی تحریری رپورٹ پیش کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ یہ قرارداد انسانی امداد کی بحالی پر زور دیتی ہے اور بین الاقوامی اور علاقائی اداروں کو امداد فراہم کرنے کے لیے قانونی اور اخلاقی مینڈیٹ فراہم کرتی ہے، تاکہ امداد فوجی اور مسلح گروپوں کی جانب نہ جائے۔

چینی مندوب ایلچی فوکونگ نے اپنے بیان میں کہا کہ منصوبے میں دو ریاستی حل، غزہ کی فلسطینی حکمرانی اور بین الاقوامی فورس کے ڈھانچے سے متعلق تشویشناک ابہام موجود ہے۔ روسی سفیر نے منصوبے کو اسرائیل کی جاری کارروائیوں کے لیے "پردہ" قرار دیا۔ حماس نے بھی قرارداد کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعے غزہ پر ایسی بین الاقوامی سرپرستی مسلط کی جا رہی ہے، جسے فلسطینی عوام قبول نہیں کریں گے۔ حماس کے مطابق بین الاقوامی فورس کو دیئے گئے اختیارات، خصوصاً مزاحمت کے غیر مسلح کرنے کا ہدف، اس فورس کو جانبدار بنا دے گا، جو بالآخر اسرائیلی مفادات کو تقویت دے گا۔ مزید برآں، حماس کا مؤقف ہے کہ وہ صرف ایک مکمل خود مختار فلسطینی حکومت کے قیام کی صورت میں ہی اپنے ہتھیار اس کے سپرد کرے گی، جبکہ قرارداد اس شرط کو نظرانداز کرتی ہے۔

پاکستان نے بھی آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا واضح لائحہ عمل، فلسطینی اتھارٹی کا مرکزی کردار اور بین الاقوامی فورس و بورڈ آف پیس کے اختیارات و ساخت کے حوالے سے اعتراضات اٹھائے، مگر چین اور روس کی مانند ووٹنگ سے باہر نہیں رہا بلکہ قرارداد کے حق میں ووٹ دیا۔ سلامتی کونسل کی یہ قرارداد اسرائیلی زیادتیوں کی کھلی مذمت سے خالی ہے۔ شنید ہے کہ اردن، قطر، امارات اور سعودی عرب استحکام فورس کا حصہ بننے سے انکار کرچکے ہیں، جبکہ مصر، انڈونیشیا، آذربائیجان، ترکی، ملائیشیا اور پاکستان اس فورس کا حصہ بننے کی پیشکش کرچکے ہیں، تاہم ممکن ہے کہ عوامی دباؤ کے تحت یہ ممالک اپنے فیصلے پر نظرثانی کرنے پر مجبور ہو جائیں۔ اگر عراق پر امریکی قبضے، افغانستان کے خلاف جنگ کی باب ہفتم کے تحت منظور شدہ قراردادوں اور آج کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو ہم آسانی سے کہہ سکتے ہیں کہ امریکہ شائد ایسی قراردادوں سے اپنے کچھ مفادات تو حاصل کرسکتا ہے، تاہم یہ قراردادیں کسی بھی مسئلہ کا مستقل حل نہیں ہیں۔

امریکہ کو سلامتی کونسل کی قراردادوں کے باوجود افغانستان سے نکلنا پڑا، عراق سے بھی نکلنے کی تیاری کر رہا ہے۔ امید یہی ہے کہ غزہ میں بھی اسے دس برس بعد ایسی ہی صورتحال کا سامنا ہوگا۔ میں نے جن دو مثالوں کا تذکرہ کیا، یہ دونوں اقوام متحدہ کی رکن ریاستیں ہیں، جبکہ فلسطین ایک مبصر رکن ہے۔ حالات ایک جیسے نہیں ہیں، تاہم اصل فیصلہ کن قوت عوام ہوتے ہیں۔ افغانستان اور عراق میں حتمی فیصلہ بہرحال عوام نے ہی کیا، فلسطین میں بھی عوام ہی یہ فیصلہ کریں گے۔ میرے خیال میں فلسطین کا دو ریاستی حل مزید دس سال آگے چلا گیا ہے، جب امن منصوبہ تاریخ کا حصہ بن جائے گا، اس وقت فلسطینی تو ہوں گے، مگر ریاست نہیں ہوگی۔ امید پر دنیا قائم ہے، فلسطینیوں اور بالخصوص اہل غزہ کو مایوس نہیں ہونا چاہیئے، خدا بہتر جانتا ہے کہ کب فرعون کے محل سے موسیٰ کو نکالے، جو فرعون کی فرعونیت کو دریائے نیل میں غرق کر دے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: سلامتی کونسل کی قراردادوں کی قراردادوں کی اقوام متحدہ کی کی قراردادیں یہ قراردادیں بین الاقوامی کے تحت منظور یہ قرارداد ہوتی ہیں نہیں ہیں کے قیام پر لازم میں بھی دیتی ہے ہے اور کے لیے کا حصہ

پڑھیں:

تھائی لینڈ میں غیر ملکیوں کی خفیہ کاروباری سرگرمیوں اور شیل کمپنیوں کے خلاف بڑا آپریشن 

تھائی لینڈ کی حکومت نے مقامی ملکیتی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کاروبار کرنے والے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق ہزاروں کمپنیوں میں مقامی افراد کو محض کاغذی مالکان ظاہر کر کے غیر ملکیوں نے کاروباری پابندیوں سے بچنے کی کوشش کی۔ تازہ کارروائیوں کے باعث غیر ملکی سرمایہ کاروں اور جائیداد مالکان میں تشویش بڑھ گئی ہے کہ ان کے اثاثے منجمد یا ضبط کیے جا سکتے ہیں۔

حکام کے مطابق جنوبی صوبے کرابی میں ایک کمپنی سرکاری ریکارڈ میں نیل سیلون (ناخنوں کی آرائش کے مرکز) کے طور پر رجسٹرڈ تھی، تاہم تحقیقات میں معلوم ہوا کہ مبینہ طور پر اسے ایک اسرائیلی خاتون بالغ مواد پر مبنی آن لائن کاروبار چلانے کے لیے استعمال کر رہی تھی، جو سبسکرپشن ویب سائٹ اونلی فینز کے ذریعے سرگرم تھا۔

یہ کمپنی تقریباً 500 ایسی کمپنیوں میں شامل تھی جنہیں ایک ہی اکاؤنٹنگ فرم نے رجسٹر کرایا تھا۔ ان کمپنیوں میں بیوٹی سیلونز سے لے کر بھنگ (کینابس) کی فارمز تک مختلف کاروبار شامل تھے۔

تھائی حکام کا کہنا ہے کہ ان تمام کمپنیوں کا تعلق غیر ملکی افراد سے تھا جنہوں نے قانون سے بچنے کے لیے مقامی تھائی شہریوں کو اکثریتی مالک ظاہر کیا، حالانکہ ان افراد کا کاروبار میں عملی کردار نہ ہونے کے برابر تھا۔

تھائی لینڈ کے فارن بزنس ایکٹ کے تحت غیر ملکی شہری عام طور پر کسی مقامی کمپنی میں 49 فیصد سے زیادہ حصص کے مالک نہیں بن سکتے۔ اس پابندی سے بچنے کے لیے بعض غیر ملکی کاروباری افراد مقامی شہریوں کو رقم دے کر ایسے دستاویزات تیار کراتے ہیں جن میں ظاہر کیا جاتا ہے کہ کمپنی کے کم از کم 51 فیصد حصص تھائی شہریوں کی ملکیت ہیں۔

برسوں تک اس طرزِ عمل کو نظر انداز کرنے کے بعد اب حکام نے سخت مؤقف اختیار کر لیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ مقامی شراکت دار کے طور پر درج افراد اپنی حقیقی سرمایہ کاری اور ملکیت کے شواہد پیش کریں۔

حکومت نے سیاحتی علاقوں میں وسیع پیمانے پر معائنے شروع کیے ہیں اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے مختلف سرکاری ڈیٹا بیسز کا تجزیہ کیا ہے۔ اس عمل کے نتیجے میں تقریباً 50 ہزار غیر ملکی روابط رکھنے والی کمپنیوں کو مزید جانچ پڑتال کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق انہیں روزانہ بڑی تعداد میں ایسے غیر ملکی سرمایہ کاروں اور جائیداد مالکان کی جانب سے رابطے موصول ہو رہے ہیں جو خدشہ رکھتے ہیں کہ اگر وہ غیر قانونی نامزد مالکان (نومنی) کے نظام میں ملوث پائے گئے تو ان کے اثاثے منجمد یا ضبط کیے جا سکتے ہیں۔

قانونی فرم لائرز فار ایکسپیٹس تھائی لینڈ کے شعبۂ بین الاقوامی امور کے جنرل منیجر برائن ریمزڈن کے مطابق تمام متاثرہ افراد کو اپنی سرمایہ کاری ضائع ہونے اور فوجداری مقدمات کا سامنا کرنے کا خوف لاحق ہے۔

انہوں نے کہا کہ اکثر افراد یہ جواز پیش کرتے ہیں کہ انہیں معلوم تھا یہ طریقہ غیر قانونی ہے، لیکن ان کے وکلا نے انہیں یقین دلایا تھا کہ اس میں کوئی مسئلہ نہیں۔

ریمزڈن کے مطابق ان کی فرم کو روزانہ 100 سے زائد فون کالز موصول ہو رہی ہیں جن میں لوگ قانونی راستہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی کمپنی عملی کاروباری سرگرمیوں میں شامل نہیں تو یہ خود ایک خطرے کی علامت ہے۔

وزیراعظم بھی متحرک

تھائی وزیر اعظم انوتن چارنویراکول بھی جعلی طور پر رجسٹرڈ کمپنیوں کے خلاف مہم میں پیش پیش ہیں۔

گزشتہ ماہ جنوبی تھائی لینڈ کے معروف سیاحتی مقامات کے دورے کے دوران انہوں نے اعلان کیا کہ غیر قانونی کاروباروں اور شیل کمپنیوں کے ذریعے سرگرم جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ جنوب مشرقی ایشیا میں سائبر فراڈ کے بڑھتے ہوئے نیٹ ورکس کے تناظر میں اس معاملے کو خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب ایک ہی شخص سینکڑوں کمپنیوں میں حصص رکھتا ہو تو اس کا مقصد دراصل کمپنیوں کی خرید و فروخت اور غیر ملکیوں کو کاروبار کے لیے قانونی ڈھانچہ فراہم کرنا ہوتا ہے، جو قانون کی روح کے منافی ہے۔

سیاحتی جزائر خصوصی نگرانی میں

تھائی وزارت تجارت کے مطابق گزشتہ ماہ کیے گئے آڈٹ میں معلوم ہوا کہ مشہور سیاحتی جزائر کوہ ساموئی اور کوہ پھانگان میں رجسٹرڈ 16 ہزار 800 قانونی اداروں میں سے تقریباً 70 فیصد میں غیر ملکیوں کی شراکت موجود ہے، تاہم وزارت نے واضح کیا کہ غیر ملکی روابط کا مطلب لازمی طور پر قانون شکنی نہیں۔

غیر ملکی مشتبہ افراد گرفتار

گزشتہ ہفتے حکام نے اعلان کیا کہ صوبوں فوکٹ اور سورات تھانی میں جعلی رجسٹریشن کے ذریعے قائم کمپنیوں کی تحقیقات کے بعد 28 غیر ملکی مشتبہ افراد کے مقدمات استغاثہ کے حوالے کر دیے گئے ہیں۔

اس سے قبل کوہ پھانگان میں حکام تقریباً 15 کروڑ بھات (45 لاکھ ڈالر) مالیت کی 30 اراضیوں کو ضبط کر چکے ہیں جبکہ غیر قانونی کمپنیوں سے تعلق رکھنے والے دو تھائی شہریوں کو بھی گرفتار کیا گیا تھا۔

مقامی کاروباری حلقوں کی شکایات

تھائی کاروباری برادری کے بعض حلقے طویل عرصے سے شکایت کرتے رہے ہیں کہ غیر ملکی سرمایہ کار ان کے لیے مسابقت مشکل بنا رہے ہیں۔

ایک معروف تھائی کاروباری شخصیت، جنہوں نے صرف اپنے عرف تھونگ سے شناخت ظاہر کرنے کی اجازت دی، کا کہنا تھا کہ بعض غیر ملکی سرمایہ کار ولاز خرید کر انہیں مختصر مدتی کرایے کی رہائش گاہوں میں تبدیل کر دیتے ہیں، جس کے بعد قیمتیں اس قدر بڑھ جاتی ہیں کہ مقامی افراد ان جائیدادوں تک رسائی نہیں رکھ پاتے۔

ان کے مطابق مکمل ملکیت غیر ملکیوں کے پاس چلے جانے سے مقامی آبادی معاشی طور پر پیچھے رہ جاتی ہے اور یہی اصل مسئلہ ہے۔

سرمایہ کاری کے ماحول پر سوالات

کریک ڈاؤن کے نتیجے میں یہ خدشات بھی پیدا ہوئے ہیں کہ بعض جائز غیر ملکی سرمایہ کار نادانستہ طور پر قانونی پیچیدگیوں کا شکار ہو سکتے ہیں، جس سے سرمایہ کاری کے لیے تھائی لینڈ کی ساکھ متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔

ملک میں کنڈومینیم ملکیت کے قوانین کے تحت کسی بھی رہائشی منصوبے کا کم از کم 51 فیصد حصہ تھائی شہریوں کے لیے مختص ہونا ضروری ہے، تاہم بنکاک، فوکٹ اور پٹایا جیسے علاقوں میں بعض اوقات پورے اپارٹمنٹ بلاکس غیر ملکی خریداروں کو فروخت کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آتی رہی ہیں۔

آن لائن فورمز پر متعدد غیر ملکی افراد نے ایسے تجربات بیان کیے ہیں جن میں جائیداد خریدنے یا لیز پر لینے کے بعد انہیں معلوم ہوا کہ متعلقہ یونٹ قانونی طور پر تھائی شہریوں کے لیے مختص تھا اور وہ اس کے حقیقی مالک نہیں بن سکتے تھے۔

پٹایا میں مقیم غیر ملکی سرمایہ کاری اور ٹیکس کے ماہر وکٹر وونگ کے مطابق غیر ملکی سرمایہ کار اس وقت شدید احتیاط اور ذہنی دباؤ کی کیفیت میں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت قوانین کے نفاذ کو تو سخت کر رہی ہے لیکن ساتھ ہی قانونی سرمایہ کاری کے نئے اور واضح راستے فراہم نہیں کیے جا رہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اب سرمایہ کار غیر قانونی شارٹ کٹس کے بجائے ایسے پائیدار اور قانونی ڈھانچوں کی تلاش میں ہیں جن کے ذریعے وہ اعتماد کے ساتھ تھائی لینڈ میں کاروبار جاری رکھ سکیں۔

تاہم بعض غیر ملکی رہائشی اس کریک ڈاؤن پر تنقید کو درست نہیں سمجھتے۔ برائن ریمزڈن کے مطابق اس صورتحال کا ذمہ دار تھائی لینڈ نہیں بلکہ وہ افراد ہیں جنہوں نے جانتے بوجھتے قوانین کی خلاف ورزی کی۔

ان کا کہنا تھا کہ کسی نے غیر ملکیوں کو غیر قانونی طریقے اختیار کرنے پر مجبور نہیں کیا۔ جو لوگ قواعد و ضوابط کی پابندی نہیں کرتے، مسئلہ دراصل وہی ہیں۔

ان کے بقول یہ کریک ڈاؤن طویل مدت میں تھائی لینڈ کے لیے زیادہ محفوظ اور بہتر ثابت ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

تھائی لینڈ غیرملکی سرمایہ کاری

متعلقہ مضامین

  • چوہدری شوکت منظور چیمہ کی چھٹی برسی، سعودی عرب میں یادگاری تقریب کا انعقاد
  • تھائی لینڈ میں غیر ملکیوں کی خفیہ کاروباری سرگرمیوں اور شیل کمپنیوں کے خلاف بڑا آپریشن 
  • کوہستان آپریشن سکینڈل: نیب نے 6 ارب سے زائد اثاثے خیبر پی کے حکومت کے حوالے کر دیئے
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی