Express News:
2026-07-24@06:03:41 GMT

ذرا بند قبا دیکھ!

اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT

صدر مملکت آصف زرداری کے دستخط کے بعد 27 ویں آئینی ترمیم اب آئین پاکستان کا حصہ بن چکی ہے۔ اس ترمیم کے تحت ملک کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ کو دو حصوں میں تقسیم کر کے آئینی عدالت قائم کر دی گئی ہے، جسٹس امین الدین جو یکم دسمبر کو ریٹائرڈ ہونے والے تھے انھیں آئینی عدالت کا سربراہ بنا کر مدت ملازمت میں تین سال کا اضافہ کر دیا گیا ہے، یعنی ان کی ریٹائرمنٹ کی عمر 65 کے بجائے 68 سال کر دی گئی ہے، جسٹس امین الدین اب مزید 3 سال آئینی عدالت کے سربراہ کی حیثیت سے کام کریں گے۔

مزید 6 ججوں کی آئینی عدالت میں تقرری کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے، جن میں تین نے حلف بھی اٹھا لیا ہے، کل تعداد 13 ہوگی۔ پاکستان کی پہلی آئینی عدالت کے محترم ججز کی تقریب حلف برداری میں حیرت انگیز طور پر سپریم کورٹ کے کسی جج نے شرکت نہیں کی بلکہ دو سینئر ترین ججز جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ نے 27 ویں ترمیم کی منظوری پر بطور احتجاج استعفے دے دیے اور صدر مملکت نے انھیں فوراً منظور بھی کر لیا، جسٹس منصور اور جسٹس اطہر من اللہ نے اپنے استعفے میں جن تحفظات کا اظہارکیا ہے، ان میں موجود وزن کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ 27 ویں آئینی ترمیم سے سپریم کورٹ کی سابقہ حیثیت پر زد پڑی ہے۔ اس کی طاقت اور اختیارات تقسیم ہو گئے۔

اہم ترین آئینی مباحث اب آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔ آئینی و قانونی ماہرین اور وکلا برادری بھی 27 ویں آئینی ترمیم پر شدید تحفظات رکھتی ہے۔ کراچی کے وکلا نے 27 ویں آئینی ترمیم کو سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔ 26 ویں آئینی ترمیم پر عدالت عظمیٰ میں کیس زیر سماعت ہے اور آئینی بینچ اس کو سن رہا ہے، اب 26 ویں ترمیم پر عدالتی فیصلہ نہیں آیا، لیکن اب یہ کیس نئی آئینی عدالت میں سنا جائے گا۔ مبصرین و تجزیہ نگاروں کے مطابق 26 ویں آئینی ترمیم جلد بازی میں رات کے اندھیرے میں منظور کرا لی گئی تھی۔ بعینہ 27 ویں ترمیم کی عجلت میں منظوری ہوئی۔

27 ویں آئینی ترمیم سے ایک ادارے کو کمزور تو دوسرے ادارے کو طاقت ور بنا دیا گیا۔ چیف آف آرمی اسٹاف ہی اب چیف آف ڈیفنس فورسز ہوں گے۔ آرمی ایکٹ میں ترمیم کے بعد چیئرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم کر دیا گیا، جب کہ چیف آف ڈیفنس فورسز کا عہدہ پانچ سال کے لیے ہوگا اور نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد اس مدت ملازمت کا آغاز ہوگا۔ گویا فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر اب نومبر 2030 تک چیف آف ڈیفنس فورسز کے منصب پر برقرار رہیں گے۔

27 ویں آئینی ترمیم پر اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان نے محمود خان اچکزئی کی زیر صدارت اپنے ایک ہنگامی اجلاس میں ملک بھر میں احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کا آغاز جمعہ کو یوم سیاہ منانے سے شروع ہوگا۔ اپوزیشن کا موقف ہے کہ 26 اور 27 ویں آئینی ترامیم آئین کی بنیادی روح اور جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے۔ یہ ترامیم عدلیہ کے اختیارات کو محدود کر کے سپریم کورٹ کو انتظامیہ کے ماتحت کر دیتی ہیں اور آئین کے بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچاتی ہے، لہٰذا ان ترامیم کے خلاف پورے ملک میں احتجاج کیا جائے گا، عوام اور وکلا برادری کو بھی متحرک کرکے احتجاج میں شرکت کریں گے۔

اپوزیشن کے موقف میں موجود وزن کو ناقابل فہم قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اکابرین حکومت کو یہ سوچنا ہوگا کہ آج وہ قومی مفاد کے نام پر پارلیمنٹ کو استعمال کرکے جو آئینی ترامیم منظور کرا کے اداروں کو منقسم کرکے ان پر اپنی حاکمیت مسلط کرنا چاہ رہے ہیں تو کل جب وہ اقتدار میں نہیں ہوں گے تو ان اقدامات کا ازالہ کیسے اور کیوں کر ممکن ہو سکے گا۔ کل جب وہ عوام کی عدالت میں جائیں گے تو کیا جواب دیں گے؟ (ن) لیگی رہنما خواجہ سعد رفیق کے بقول استعفوں کا سلسلہ عدلیہ سے ہوتا ہوا پارلیمنٹ تک جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر مخالف کو پکڑا جا سکتا ہے اور نہ ہی اسے ملک دشمن قرار دیا جا سکتا ہے۔ دشمنوں میں گھرا نیوکلیئر پاکستان آخر کب تک اندرونی محاذ آرائی کا متحمل ہوگا؟ انھوں نے بجا طور پر کہا کہ دیرینہ تنازعات کے حل کے لیے نئے تنازعات کو جنم دینا دانش مندی نہیں۔

27 ویں آئینی ترمیم پر نہ صرف اندرون وطن بلکہ بیرون وطن بھی ذرایع ابلاغ میں تبصرے اور تجزیے کیے جا رہے ہیں۔ نیویارک ٹائم کے مطابق ترمیم کی منظوری کے بعد سپریم کورٹ کے دائرہ کار میں کمی واقع ہوئی ہے۔ گارڈین کے مطابق ترمیم سپریم کورٹ کی آزادی کو محدود کرسکتی ہے۔ غیر ملکی ذرایع ابلاغ میں بھی 27 ویں ترمیم پر تحفظات کا اظہار سامنے آ رہا ہے، جب کہ حکمران، وزرا اور مشیران تک سب ترمیم کو ادارہ جاتی ہم آہنگی اور قومی استحکام کے لیے مثبت قرار رہے ہیں۔ حقیقت تو سب پر عیاں ہے بس جرأت اظہار کی ضرورت ہے۔ بقول شاعر:

اتنی نہ بڑھا پاکیٔ داماں کی حکایت

دامن کو ذرا دیکھ، ذرا بند قبا دیکھ

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ویں آئینی ترمیم پر آئینی عدالت سپریم کورٹ عدالت میں ویں ترمیم دیا گیا چیف آف کر دیا کے بعد

پڑھیں:

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔

مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔

فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن