وفاقی آئینی عدالت کے 2 مزید ججز جسٹس روزی بڑیچ اور جسٹس ارشد شاہ نے حلف اٹھالیا
اشاعت کی تاریخ: 17th, November 2025 GMT
پیر کے روز وفاقی آئینی عدالت (ایف سی سی ) کے 2 مزید ججز نے حلف اٹھایا۔ایف سی سی کے چیف جسٹس امین الدین خان نے اسلام آباد میں منعقدہ تقریب میں جسٹس روزی خان بڑیچ اور جسٹس ارشد حسین شاہ سے حلف لیا، اپنے حلف میں دونوں ججز نے آئین کی پاسداری کرنے کا عہد کیا۔ججز نے حلف میں کہا کہ ’میں صدق دل سے حلف اٹھاتا ہوں کہ پاکستان کے ساتھ حقیقی وفاداری رکھوں گا، اور بطور جج ایف سی سی پاکستان اپنے فرائض ایمانداری سے، اپنی بہترین صلاحیت کے مطابق اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین و قانون کے مطابق وفاداری کے ساتھ انجام دوں گا۔ایف سی سی کے دیگر ارکان جسٹس سید حسن اظہر رضوی، عامر فاروق، علی باقر نجفی اور کے کے آغا نے گزشتہ ہفتے کے آخر میں حلف اٹھایا تھا۔ذرائع نے پہلے بتایا تھا کہ جسٹس ارشد حسین شاہ کو اس وقت تعینات کیا گیا تھا، جب سپریم کورٹ کی جسٹس مسرّت ہلالی نے ایف سی سی میں شمولیت سے معذرت کرلی تھی۔صدر آصف علی زرداری نے گزشتہ ہفتے جسٹس امین الدین کو ایف سی سی کا چیف جسٹس مقرر کیا تھا، بعد ازاں 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری دی تھی۔
ایف سی سی کی ابتدائی تشکیل صدر کے حکم کے ذریعے طے کی گئی، جب کہ مستقبل میں ججز کی تعداد میں کسی بھی اضافے کے لیے پارلیمنٹ کی منظوری درکار ہوگی۔حکومتی اہلکاروں کے مطابق، ایف سی سی کے قیام کا مقصد سپریم کورٹ کے بوجھ کو کم کرنا، آئینی کیسز کا بروقت فیصلہ یقینی بنانا، اور عدالتی آزادی اور ساکھ کو مضبوط کرنا ہے۔چیف جسٹس اور 4 ججز کے حلف اٹھانے کے بعد ایف سی سی باضابطہ طور پر جمعہ کو کام شروع کر چکی ہے، نیا آئینی ادارہ وقتی انتظامات کے تحت کام کر رہا ہے، کیوں کہ اس کی مستقل عمارت ابھی تک حتمی طور پر طے نہیں ہوئی۔حلف برداری کی تقریب 5 سینئر ججز اسلام آباد ہائی کورٹ کے بائیکاٹ کے سبب کم توجہ حاصل کر سکی، کیوں کہ سوال اٹھا کہ ایف سی سی میں تقرری کس اصول یا معیار کے تحت کی گئی ہے۔ناقدین نے نشاندہی کی کہ اگر سنیارٹی معیار ہے، تو نئے تعینات ہونے والوں میں سے صرف جسٹس امین الدین سابق سپریم کورٹ کے آئینی بینچ (سی بی) کے اراکین سے سینئر ہیں، جنہیں نظر انداز کیا گیا ہے۔بیرسٹر علی طاہر نے سندھ ہائی کورٹ میں 27ویں ترمیم کے خلاف درخواست دائر کر دی۔درخواست میں وفاق پاکستان کو وزارت قانون و انصاف کے ذریعے فریق بنایا گیا ہے۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ وفاقی آئینی عدالت کے تمام ججز (جنہیں اس درخواست میں غیر آئینی قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے)، بشمول چیف جسٹس امین الدین خان، کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: جسٹس امین الدین ایف سی سی چیف جسٹس گیا ہے نے حلف
پڑھیں:
سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
---فائل فوٹواسلام آباد ہائی کورٹ نے سارا انعام قتل کیس میں سزا یافتہ مجرم شاہنواز امیر کی سزا کے خلاف اپیل اور دیگر متعلقہ اپیلوں کی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔
کیس کی سماعت جسٹس خادم حسین سومرو اور جسٹس محمد آصف نے کی، مجرم کی والدہ ثمینہ شاہ کی بریت کے خلاف درخواست بھی زیرِ سماعت آئی۔
سماعت کے دوران شاہنواز امیر کی جانب سے وکیل چوہدری عبدالعزیز جبکہ مقتولہ سارا انعام کے والد کی جانب سے رضوان عباسی عدالت میں پیش ہوئے۔
جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس انعام امین منہاس نے کیس کی سماعت کی۔
جسٹس خادم حسین سومرو نے استفسار کیا کہ کیا فریقین دلائل کے لیے تیار ہیں جس پر دونوں جانب کے وکلا نے آمادگی ظاہر کی، بعد ازاں وکیل چوہدری عبدالعزیز نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے سب سے پہلے ایف آئی آر کا متن پڑھا۔
وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اس مقدمے میں ایاز امیر ابتدا ہی میں کیس سے ڈسچارج ہو گئے تھے اور اس حکم کو کسی فورم پر چیلنج نہیں کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ ثمینہ شاہ کو بھی ٹرائل کورٹ نے عدم شواہد کی بنیاد پر بری کیا تھا تاہم اس وقت ان کے وکیل عدالت میں موجود نہیں تھے۔
عدالت نے آئندہ تاریخ کے حوالے سے فریقین سے رائے طلب کی جس پر رضوان عباسی نے سماعت آئندہ ہفتے یا موسم گرما کی تعطیلات کے بعد مقرر کرنے کی استدعا کی۔
اسلام آباداسلام آباد کی مقامی عدالت نے سارہ...
بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ ستمبر 2022ء میں سارا انعام کو ان کے شوہر شاہنواز امیر نے قتل کر دیا تھا جبکہ ٹرائل کورٹ شاہنواز امیر کو سزائے موت سنا چکی ہے۔