کیا موٹر سائیکلز کے لیے ای ٹیگ کی ضرورت نہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT
اسلام آباد کی انتظامیہ شہر میں داخل ہونے والی ٹریفک کو منظم کرنے اور گاڑیوں کی درست شناخت کے لیے مرحلہ وار ای ٹیگ اور ایم ٹیگ نظام متعارف کرا رہی ہے۔
ابتدائی مرحلے میں صرف گاڑیوں کو ای ٹیگ جاری کیے جا رہے ہیں، جبکہ آئندہ دنوں میں اس نظام کا دائرہ مزید بڑھایا جائےگا۔
مزید پڑھیں: گاڑیوں پر ای ٹیگز، ایم ٹیگز لگانا اور شہریوں کا ڈیٹا جمع کرنا کیوں ضروری؟ وزیراطلاعات نے بتا دیا
ای ٹیگنگ کہاں سے ہوگی؟ اس کا طریقہ کار کیا ہے؟ جہاں شہریوں کے دماغ میں یہ سوالات ہیں۔ وہیں ایک یہ سوال بھی گردش کررہا ہے کہ کیا یہ پابندی موٹر سائیکلوں پر بھی لاگو ہوگی؟
’ابھی تک ای ٹیگ نظام 4 پہیوں والی گاڑیوں پر نافذ کیا جارہا ہے‘اسلام آباد ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر بلال اعظم نے ’وی نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس وقت ای ٹیگ نظام صرف 4 پہیوں والی گاڑیوں پر نافذ کیا جا رہا ہے اور یہی پائلٹ فیز کا حصہ ہے۔
ان کے مطابق ابتدائی مرحلے میں 2 مقامات ایکسائز آفس ایچ ایٹ اور کچنار پارک آئی ایٹ پر ای ٹیگنگ کا عمل جاری ہے، جبکہ مزید مراکز 18 نومبر سے بحال ہو جائیں گے۔ اس کے ذریعے شہریوں کا ڈیٹا جمع کیا جا رہا ہے اور نظام کی افادیت کو جانچا جا رہا ہے۔
شہریوں کی بڑی تعداد یہ سمجھنے میں کنفیوژن کا شکار ہے کہ آیا انہیں اپنی موٹرسائیکلوں کے لیے بھی فوری طور پر ٹیگ بنوانا ہوگا یا نہیں؟
’موٹرسائیکلوں کے لیے ٹیگنگ کا الگ منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے‘موٹر بائیکس کے حوالے سے سوال پر بلال اعظم نے وضاحت کی کہ موٹرسائیکلوں کے لیے ٹیگنگ کا الگ منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے، تاہم اسے فوری طور پر شروع نہ کرنے کی بڑی وجہ موسمی اثرات ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ موٹرسائیکلوں پر عام ای ٹیگ اسی طرح نہیں لگایا جا سکتا جیسے گاڑیوں پر لگایا جاتا ہے، کیونکہ بارش یا پانی لگنے سے ٹیگ کے اترنے، خراب ہونے یا پھٹ جانے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔
’اسی وجہ سے محکمہ اس بات پر غور کررہا ہے کہ موٹر سائیکل پر ٹیگ کس جگہ اور کس میٹیریل کے ساتھ لگایا جائے تاکہ وہ موسم کی سختی میں بھی محفوظ رہے اور سسٹم اسے درست طور پر پڑھ سکے۔‘
انہوں نے بتایا کہ موٹرسائیکلوں کے لیے ٹیگنگ کا حتمی طریقہ کار تیار کیا جا رہا ہے، اور جیسے ہی موزوں تکنیکی حل طے پا جائے گا، موٹر سائیکلوں کے لیے بھی ٹیگنگ کا مرحلہ شروع کردیا جائے گا۔
ای ٹیگ حاصل کرنے کے لیے گاڑی مالک کے پاس کونسی دستاویزات ہونی ضروری ہیں؟ایک مذید سوال پر بلال اعظم نے بتایا کہ ای ٹیگ حاصل کرنے کے لیے گاڑی کے مالک کے پاس گاڑی کے تمام کاغذات، رجسٹریشن کارڈ اور شناختی کارڈ ہونا لازمی ہے۔
’یہ ٹیگ خاص کوڈ شناختی نمبر پر مبنی ہوتا ہے اور محکمہ ایکسائز کے ڈیٹا بیس کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے تاکہ گاڑی کی معلومات اور مالک کی تصدیق کی جاسکے۔ اس کے علاوہ نئے ٹیگ کو شہر کی نگرانی کرنے والے نظام (سیف سِٹی) کے ساتھ بھی جوڑا جائے گا، اور اس کی فیس 250 روپے ہے۔ ‘
یہ بھی پڑھیں: موٹر وے ایم ٹیگ کی حامل گاڑیوں کو نیا ای ٹیگ لگانے کی ضرورت نہیں، ڈائریکٹر ایکسائز اسلام آباد کی وضاحت
اسلام آباد انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ مرحلہ وار نظام اس لیے اختیار کیا جا رہا ہے تاکہ شہر میں داخل ہونے والی ٹریفک کو منظم طریقے سے ڈیٹا بیس میں لایا جا سکے۔
واضح رہے حکام کا کہنا ہے کہ اس نظام سے نمبر پلیٹس کی جعل سازی یا تبدیلی جیسے مسائل کافی حد تک کم ہوں گے کیونکہ جعلی ٹیگز سسٹم میں پڑھ ہی نہیں سکیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اسلام آباد ٹریفک پولیس اسلام آباد انتظامیہ ای ٹیگ ایم ٹیگ موٹرسائیکل ای ٹیگز وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلام آباد ٹریفک پولیس اسلام ا باد انتظامیہ ای ٹیگ ایم ٹیگ وی نیوز موٹرسائیکلوں کے لیے کیا جا رہا ہے اسلام آباد گاڑیوں پر ٹیگنگ کا کہ موٹر ایم ٹیگ ہے اور
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔