بلوچستان میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس معطل
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
بلوچستان میں سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر صوبے بھر میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس معطل کر دی گئی ہے۔ محکمہ داخلہ کے اعلامیہ کے مطابق یہ معطلی 16 نومبر تک برقرار رہے گی۔
یہ بھی پڑھیں: ملک بھر میں انٹرنیٹ سروسز کیوں متاثر ہیں؟
محکمہ داخلہ کے مطابق حب، چمن، واشک، جھل مگسی، لسبیلہ، ژوب، قلات، ہرنائی، شیرانی، پنجگور، زیارت، لو رالائی، صحبت پور، خاران، مو سی خیل، کیچ، کچھی، سوراب، مستونگ، خضدار میں آج سے 16 نومبر تک موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس معطل رہے گی۔
اس دوران اوستہ محمد، دکی، کوہلو، سبی، نوشکی، بارکھان، قلعہ سیف اللہ، جعفر آباد، آواران، قلعہ عبد اللہ، چاغی، نصیر آباد، ڈیرہ بگٹی، گوادر اور پشین سمیت دیگر اضلاع میں بھی موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس معطل رہے گی۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان میں پبلک ٹرانسپورٹ کی معطلی کا فیصلہ واپس لے لیا گیا
انٹرنیٹ سروس کی معطلی سے طلبا، تاجروں اور صحافیوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل صوبائی حکومت کی جانب سے پبلک ٹرانسپورٹ 14نومبر تک معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو اب واپس لے لیا گیا ہے، جبکہ 13نومبر تک صوبے میں جعفر ایکسپرس کی سروس معطل رہے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news انٹرنیٹ بلوچستان پاکستان سروس معطل موبائل فون.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انٹرنیٹ بلوچستان پاکستان موبائل فون موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس معطل رہے گی
پڑھیں:
بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز