WE News:
2026-07-24@05:58:17 GMT

یوکرین کا فرانس سے 100 رافیل طیارے خریدنے کا معاہدہ طے پاگیا

اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT

یوکرین کا فرانس سے 100 رافیل طیارے خریدنے کا معاہدہ طے پاگیا

فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون اور یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے ایک اہم دفاعی معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جس کے تحت یوکرین آئندہ برسوں میں 100 تک لڑاکا طیارے اور دیگر عسکری ساز و سامان حاصل کرے گا۔

معاہدے کے مطابق جدید رفال لڑاکا طیاروں کی فراہمی 10 سالہ منصوبے کے تحت متوقع ہے، تاہم ڈرونز اور انٹرسیپٹرز کی پیداوار رواں سال کے آخر تک شروع کر دی جائے گی۔

معاہدے میں نئے جنریشن کے SAMP-T ایئر ڈیفنس سسٹمز، ریڈار سسٹمز اور ڈرونز کی فراہمی بھی شامل ہے۔ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب یوکرین حالیہ ہفتے میں بدعنوانی اسکینڈل، روسی افواج کی پیش قدمی اور فضائی حملوں میں اضافے کے باعث دباؤ کا شکار ہے۔

مشکل مرحلہ

صدر میکرون نے تسلیم کیا کہ یوکرین کے لیے یہ ایک مشکل وقت ہے۔ انہوں نے روس پر جنگ کو جاری رکھنے اور اسے مزید بھڑکانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ امید ہے 2027 میں ان کی مدت صدارت ختم ہونے سے پہلے امن قائم ہو جائے گا۔ تاہم انہوں نے زور دیا کہ ایک مضبوط یوکرینی فوج ہی مستقبل میں روسی جارحیت کو روک سکے گی۔

زیلنسکی پیرس پہنچنے سے قبل یونان کے دورے پر تھے، جہاں یوکرینی اور یونانی گیس کمپنیوں نے امریکا سے اس موسمِ سرما میں ایل این جی کی فراہمی کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔

روسی دباؤ میں اضافہ

یوکرین کے مشرقی شہر خارکیف میں روسی حملے میں 3 افراد ہلاک ہوگئے، جبکہ گزشتہ جمعے کو کیف میں رہائشی عمارتوں پر حملوں میں 7 افراد مارے گئے۔ روسی وزارت دفاع کے مطابق روسی افواج نے مشرقی یوکرین کے تین مزید دیہات پر قبضہ کر لیا ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امن معاہدے کی کوششیں تعطل کا شکار ہیں کیونکہ روس جنگ بندی اور اپنے علاقائی مطالبات سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔

میکرون نے کہا کہ رفال طیاروں کی فراہمی جنگ کے بعد ہی ممکن ہوگی، لیکن پائیدار امن کے لیے یوکرین کی فوج کا مضبوط ہونا ضروری ہے۔

یوکرینی صدر منگل کو اسپین کا دورہ بھی کریں گے، جہاں مزید عسکری و سفارتی پیش رفت متوقع ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: کی فراہمی یوکرین کے کے لیے

پڑھیں:

سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا

نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔  نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔

متعلقہ مضامین

  • حکومت کاچینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • جیفری ایپسٹین کیس سے جڑے معروف نام ڈینیئل سیاد کی فرانس میں پراسرار موت
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا