28ویں ترمیم میں بلدیاتی اداروں کے معاملات طے ہونگے، مصطفیٰ کمال
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
اسلام آباد(نیوزڈیسک) وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ 28ویں آئینی ترمیم میں بلدیاتی اداروں سے متعلق معاملات طے کیے جائیں گے۔
جیو نیوز کے پروگرام کیپٹل ٹاک میں مصطفیٰ کمال، پی ٹی آئی کے عمیر نیازی اور جے یو آئی کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے شرکت کی۔
اس موقع پر وفاقی وزیر نے کہا کہ بلدیاتی اداروں سے متعلق کچھ معاملات پر پیپلز پارٹی کے اعتراضات ہیں، جنہیں دور کرکے ہی ترمیم لائی جائے گی۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ 28ویں ترمیم میں بلدیاتی اداروں سے متعلق معاملات طے کرلیے جائیں گے۔
اس موقع پر عمیر نیازی نے کہا کہ بلدیاتی معاملات پر حکمران اتحاد کی دونوں بڑی جماعتوں ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں لڑائی ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بلدیاتی اداروں نے کہا
پڑھیں:
مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے آیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔
انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔
بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔