روبوٹ کے ذریعے گردے کی کامیاب سرجری، یہ انسانوں سے بہتر ثابت ہوں گے، ماہرین
اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT
پاکستان میں پہلی بار ٹو مائی روبوٹک سسٹم کے ذریعے ٹیلی سرجری کامیابی سے انجام دے دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: بنا انسانی مداخلت روبوٹک سرجری سے پِتّے کا کامیاب آپریشن اہم سنگ میل قرار
اس کی مدد سے پہلی سرجری گردے کی انجام دی گئی۔ ٹو مائی سسٹم کے ذریعے ماہر سرجن اب دور دراز یا کم سہولت والے علاقوں میں پیچیدہ آپریشن کر سکتے ہیں۔
ماہر ڈاکٹر باہر بیٹھ کر جو عمل کریں روبوٹ اس کو دہرائے گا۔ ایک روبوٹ ڈاکٹر کی قمیت 30 کروڑ روپے ہے۔
مزید پڑھیے: جناح اسپتال کراچی کا کارنامہ، روبوٹک سرجری کا کامیاب آغاز
پروفیسر ڈاکٹر منصب علی کے مطابق ربورٹ سے سرجری کا علاج تھوڑا مہنگا ہے لیکن اس کے نتائج بہترین ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ انسانوں سے زیادہ اچھی سرجری کر سکتے ہیں۔
مزید پڑھیے: سعودی عرب میں دنیا کی پہلی روبوٹک دل کی پیوندکاری، 16 سالہ مریض پر کامیاب آپریشن
انہوں نے بتایا کہ اسں ربوٹک ٹیکنالوجی کے لیے 5 جی سیٹلائیٹ نیٹ کا ہونا بھی ضروری ہے جو ہم اس وقت استعمال کر رہے ہیں۔ تفصیل جانیے اس ویڈیو رپورٹ میں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ڈاکٹر روبوٹ روبوٹک سرجری گردے کی روبوٹک سرجری.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ڈاکٹر روبوٹ روبوٹک سرجری گردے کی روبوٹک سرجری روبوٹک سرجری
پڑھیں:
پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر صوبے میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع اور نگرانی کے لیے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔
ڈرون مانیٹرنگ کے دوران جھنگ کے تریموں بیراج میں پانی کی سطح معمول کے مطابق ریکارڈ کی گئی جبکہ پاکپتن میں دریائے راوی اور ستلج میں سیلابی صورتحال، پانی کی آمد اور دریائی کناروں پر کٹاؤ کا جائزہ لیا گیا، جہاں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق رہا۔
سرگودھا میں دریائے چناب پر واقع طالب والا پل، خانیوال میں ہیڈ سدھنائی بیراج اور ہیڈ ورکس، جبکہ منڈی بہاؤالدین میں رسول بیراج پر بھی ڈرون سرویلنس کے ذریعے پانی کے بہاؤ کی نگرانی کی گئی۔ حکام کے مطابق ساہیوال کے علاقے کتب شہانہ کے قریب نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا، جبکہ سیالکوٹ کے ہیڈ مرالہ پر پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 74 ہزار کیوسک ریکارڈ ہوا۔