پاک فوج اور یو اے ای کے صدارتی گارڈز کی مشترکہ انسداد دہشتگردی مشق اختتام پذیر
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
پاک فوج اور متحدہ عرب امارات کے صدارتی گارڈز کی مشترکہ انسداد دہشتگردی مشق ’جلمود اول‘ اختتام پذیر ہوگئی ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان اور یو اے ای کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پراتفاق
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق تربیلا میں پاک فوج اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے صدارتی گارڈز کے درمیان دو ہفتوں پر مشتمل مشترکہ انسداد دہشت گردی مشق ’جلمود اول‘ کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔
یہ مشق ہاسٹیج ریسکیو آپریشنز (یرغمال بنائے گئے افراد کی بازیابی) پر مرکوز تھی، جس میں پاک فوج کے اسپیشل سروسز گروپ (ایس ایس جی) اور یو اے ای صدارتی گارڈز کے دستوں نے حصہ لیا۔
اختتامی تقریب میں جنرل آفیسر کمانڈنگ ایس ایس جی نے بطورِ مہمانِ خصوصی شرکت کی، جبکہ سینیئر یو اے ای عسکری حکام اور سفارت کار بھی اس موقع پر موجود تھے۔
مزید پڑھیں: پاکستان یو اے ای سفارتی تعلقات میں پیشرفت، سفارتی و سرکاری پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سہولت فعال
آئی ایس پی آر کے مطابق مشق کا مقصد انسداد دہشت گردی اور یرغمالیوں کی بازیابی کے آپریشنز میں دونوں ممالک کے دستوں کی مشترکہ پیشہ ورانہ مہارت میں اضافہ کرنا اور پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان فوجی تعاون کو مزید مضبوط بنانا تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews انسداد دہشتگردی پاک فوج متحدہ عرب امارات مشترکہ مشق وی نیوز یو اے ای.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انسداد دہشتگردی پاک فوج متحدہ عرب امارات مشترکہ مشق وی نیوز یو اے ای متحدہ عرب امارات صدارتی گارڈز یو اے ای پاک فوج
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور فوری طور پر لڑائی روکنا ناگزیر ہے۔ اپنے ایک بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ اب واپس پلٹنے کا وقت آ گیا ہے اور ہر جگہ جنگ و جدل کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔
انہوں نے زور دیا کہ بحری راستوں پر آزادانہ آمدورفت بحال کی جائے، کیونکہ عالمی تجارت اور علاقائی استحکام کے لیے محفوظ بحری گزرگاہیں انتہائی اہم ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔