وزارت آئی ٹی نے سائبر سیکورٹی ایکٹ کا ابتدائی مسودہ تیار کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
نادرا، ایف بی آر، ٹیلی کام کے ڈیٹا کو اہم ڈیجیٹل انفراسٹرکچر قرار دے دیا گیا ہے۔ اہم اداروں کے انفارمیشن سسٹمز کا تحفظ حکومت کی ترجیح ہے۔ امیگریشن اینڈ پاسپورٹس سسٹمز کو بھی اہم قرار دینے کا عمل جاری ہے۔ نیشنل سائبر سکیورٹی اتھارٹی کے قیام تک سرٹ کونسل فعال ہے۔ اسلام ٹائمز۔ وزارت آئی ٹی نے سائبر سکیورٹی ایکٹ کا ابتدائی مسودہ تیار کر لیا ہے۔وفاق کی سطح پر سائبر سکیورٹی اتھارٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اتھارٹی اہم قومی انفراسٹرکچر کیلئے سائبر سکیورٹی اقدامات تجویز کرے گی۔ سائبر سکیورٹی اتھارٹی ملک میں سائبر سکیورٹی اقدامات نافذ کرے گی۔ وزارت آئی ٹی کا کہنا ہے کہ سائبر سکیورٹی ایکٹ سٹیک ہولڈرز کو مشاورت کیلئے بھیج دیا گیا ہے۔ نیشنل سائبر سکیورٹی پالیسی ملک گیر ڈیجیٹل تحفظ کا فریم ورک فراہم کرتی ہے۔
نادرا، ایف بی آر، ٹیلی کام کے ڈیٹا کو اہم ڈیجیٹل انفراسٹرکچر قرار دے دیا گیا ہے۔ اہم اداروں کے انفارمیشن سسٹمز کا تحفظ حکومت کی ترجیح ہے۔ امیگریشن اینڈ پاسپورٹس سسٹمز کو بھی اہم قرار دینے کا عمل جاری ہے۔ نیشنل سائبر سکیورٹی اتھارٹی کے قیام تک سرٹ کونسل فعال ہے۔ کونسل 14 سرکاری و نجی اداروں پر مشتمل ہے۔ کونسل کے ذریعے سائبر حملوں کے جواب اور ہم آہنگی کو مضبوط بنایا جا رہا ہے۔ پاکستان انفارمیشن سکیورٹی فریم ورک 2025 پر بھی کام جاری ہے۔ سائبر سکیورٹی پالیسی پر ڈیجیٹل اکانومی انہانسمنٹ پروگرام کے تحت نفاذ جاری ہے۔ سکیور ڈیٹا ایکسچینج لئیر، ڈیجیٹل شناخت کے منصوبوں پر پیش رفت ہوئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سائبر سکیورٹی اتھارٹی جاری ہے گیا ہے
پڑھیں:
اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) کے شہدا کے لواحقین کو اعلان کردہ معاوضہ پیکج نہ ملنے کے معاملے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیے کہ درخواست 25 دن کی تاخیر سے دائر کی گئی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شہدا کے لواحقین کو حکومت کی جانب سے اعلان کردہ پیکج تاحال نہیں ملا۔
اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی پیکج دیا گیا ہے تو وہ تمام متاثرہ لواحقین کو ملنا چاہیے۔
انہوں نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ عدالت کو آگاہ کرے کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوا ہے یا نہیں۔
سماعت کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف شہدا کے لواحقین کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی، تاہم پشاور ہائیکورٹ نے مذکورہ درخواست کو خارج کر دیا تھا۔
بعد ازاں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews جواب طلب سپریم کورٹ عدم ادائیگی معاوضہ پیکج وفاقی حکومت وی نیوز