سرزمین کا تحفظ اور قومی سالمیت اولین ترجیح ہے‘ اس پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا‘فیلڈ مارشل
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251127-01-12
راولپنڈی (مانیٹرنگ ڈیسک) فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ پاکستان کی سرزمین کا تحفظ، قومی سالمیت اور ہر پاکستانی شہری کی حفاظت پاک فوج کی اولین ترجیح ہے اور اس پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق نیشنل سیکورٹی ورکشاپ–27 کے شرکاء نے گزشتہ روز جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) کا دورہ کیا،جی ایچ کیو میں نیشنل سیکورٹی ورکشاپ کے شرکا کو ملکی و علاقائی سیکورٹی صورتحال پر بریفنگ دی گئی۔ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کا یہ اہم تربیتی پروگرام NSW–27 ارکانِ پارلیمان، سینئر سول و عسکری افسران، ماہرین تعلیم اور سول سوسائٹی کے نمائندگان کو ایک پلیٹ فارم پر لاتا ہے تاکہ قومی سلامتی سے متعلق اہم امور پر جامع آگاہی فراہم کی جا سکے۔ بیان کے مطابق آرمی چیف نے قوم کے اتحاد کو پاکستان کی اصل قوت قرار دینے کے عزم کا اظہار کیا، دورے میں انہیں پاکستان کے علاقائی و داخلی سیکورٹی ماحول اور مجموعی قومی سلامتی کی صورتحال پر مفصل بریفنگ دی گئی۔ شرکاء نے چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے خصوصی نشست میں تبادلہ خیال بھی کیا، آرمی چیف نے خطے کے تبدیل ہوتے سیکورٹی ماحول کا ذکر کیا۔ فیلڈ مارشل نے کہا کہ بڑھتی ہوئی جیو پولیٹیکل کشمکش، سرحد پار دہشتگردی اور ہائبرڈ جنگ جیسے چیلنجز نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بیرونی حمایت یافتہ دہشتگردی اور معلوماتی جنگ کے باوجود پاکستان کی مسلح افواج، انٹیلی جنس ادارے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے غیر متزلزل عزم، پیشہ ورانہ مہارت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ فیلڈ مارشل نے کہا کہ پاکستان ایک باوقار ملک ہے اور عالمی برادری میں اسے اس کا جائز مقام ضرور حاصل ہوگا۔ معرکہ حق” کے دوران پاک افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور عزم نے دنیا میں پاکستان کے وقار میں اضافہ کیا ہے۔ سید عاصم منیر نے کہا کہ پاکستان کی سب سے بڑی قوت قومی اتحاد ہے اور ہم اسی اتحاد کے ساتھ دشمنوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنائیں گے، ان شاء اللہ۔ شرکاء کو ملک میں جاری غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف اقدامات سے بھی آگاہ کیا گیا، جن میں اسمگلنگ، منشیات کی ترسیل اور منظم جرائم کے نیٹ ورکس کے خلاف کریک ڈاؤن شامل ہے، بریفنگ میں سرحدی انتظام بہتر بنانے اور غیر قانونی غیر ملکیوں کی واپسی کے اقدامات پر تازہ پیش رفت بھی شیئر کی گئی۔ فیلڈ مارشل نے کہا کہ پاکستان کی سرزمین کا تحفظ، قومی سالمیت اور ہر پاکستانی شہری کی حفاظت پاک فوج کی اولین ترجیح ہے اور اس پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں کیا جائے گا، پائیدار امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے وفاقی و صوبائی حکومتوں کے ساتھ ہم آہنگ قومی کوششیں انتہائی ضروری ہیں۔ عاصم منیر نے کہا کہ پاک فوج ملکی اداروں کے ساتھ ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نے کہا کہ پاک کہ پاکستان فیلڈ مارشل پاکستان کی پاک فوج ہے اور
پڑھیں:
عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔
ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔