امریکا سے مزید 39 بنگلہ دیشی باشندے خصوصی امریکی فوجی پرواز کے ذریعے واپس ڈھاکا پہنچے ہیں۔ یہ پرواز جمعہ کی صبح قریباً 5:30 بجے حضرت شاہ جلال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اتری، جہاں ایئرپورٹ حکام کے تعاون سے واپسی آنے والوں کو ہنگامی مدد اور نقل و حمل کی سہولت فراہم کی۔

بنگلہ دیش مائیگریشن پروگرام کے مطابق، واپس آنے والوں میں سے 26 افراد نواخالی کے ہیں۔ باقی افراد میں کوملا، سلہٹ، فینی اور لکشمی پور سے دو دو، جبکہ چٹگرام، غازی پور، ڈھاکا، منشی گنج اور نرسنگدی سے ایک ایک شامل ہے۔ اس گروپ کی واپسی کے ساتھ، امسال امریکا سے واپس آنے والے بنگلہ دیشیوں کی تعداد 187 تک پہنچ گئی ہے۔

مزید پڑھیں:چین کا بنگلہ دیش میں پٹ سن پر منحصر صنعتوں میں بڑی سرمایہ کاری کا عندیہ

حکام نے بتایا کہ ان 39 افراد میں سے کم از کم 34 نے برازیل جانے کے لیے قانونی اجازت لی تھی، لیکن وہاں سے غیر قانونی طور پر میکسیکو کے راستے امریکا پہنچنے کی کوشش کی۔ باقی 5 افراد میں سے 2 براہ راست امریکا گئے جبکہ 3 نے جنوبی افریقہ کے راستے امریکا کا سفر کیا۔ تمام افراد نے امریکا میں رہائش کے لیے درخواست دی، لیکن قانونی کارروائی کے بعد امریکی حکام نے انہیں ملک بدر کرنے کا حکم دیا۔

مائیگریشن اور یوتھ پلیٹ فارم کے ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر شریف الحسن نے سوال اٹھایا کہ جب یہ افراد قانونی طور پر برازیل جا سکتے تھے تو یہ بات کیوں نظر انداز کی گئی کہ وہ امریکا جانے کے لیے اسے عبوری راستہ استعمال کر رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ہر فرد نے 30 سے 35 لاکھ ٹکا صرف کیا اور بالآخر خالی ہاتھ واپس آئے۔ اس کے ذمہ دار کون ہیں؟ انہوں نے مزید کہا کہ بھرتی کرنے والی ایجنسیاں اور اجازت دینے والے حکام جواب دہ ہوں، اور حکومت کو نئے ملازمین کو برازیل بھیجنے سے پہلے اپنی کارروائی کے طریقہ کار کا جائزہ لینا چاہیے۔

ایئرپورٹ ذرائع اور واپس آنے والے افراد نے بتایا کہ اس سال کے پہلے گروپوں کے مقابلے میں، جنہیں ہاتھوں اور پیروں میں زنجیروں کے ساتھ واپس بھیجا گیا تھا، اس بار واپسی میں ایسا عمل نہیں کیا گیا۔

مزید پڑھیں:بنگلہ دیش: شیخ حسینہ کو 3 کرپشن کیسز میں مجموعی طور پر 21 سال قید کی سزا

ڈونلڈ ٹرمپ کے وائٹ ہاؤس میں دوبارہ آنے کے بعد، امریکی حکام نے غیر قانونی تارکینِ وطن پر کریک ڈاؤن تیز کر دیا ہے۔ اس سخت نفاذ کے تحت، پچھلے چند مہینوں میں کئی بنگلہ دیشی اور دیگر غیر ملکی شہری ملک بدر کیے جا چکے ہیں۔

امریکی قوانین کے مطابق، غیر قانونی تارکینِ وطن کو عدالت کے حکم یا انتظامی فیصلہ کے بعد ملک بدر کیا جا سکتا ہے۔ اگر پناہ کی درخواست ناکام ہو جائے تو امریکا کی امیگریشن اور کسٹمز انسپیکشن واپسی کا انتظام کرتا ہے۔ حالیہ مہینوں میں اس عمل میں تیزی آئی ہے، جس کے نتیجے میں چارٹرڈ اور فوجی پروازوں کا زیادہ استعمال کیا گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

39 بنگلہ دیشی امریکا بنگلہ دیش.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: 39 بنگلہ دیشی امریکا بنگلہ دیش بنگلہ دیشی بنگلہ دیش کے لیے

پڑھیں:

’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی

پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔

طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘

طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔

سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔

دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔
 

متعلقہ مضامین

  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق