حسینہ واجد کے بینک لاکرز سے برآمد ہونے والا 10 کلو سونا ضبط
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
بنگلہ دیش میں اینٹی کرپشن حکام نے سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ کے بینک لاکرز سے 9.7 کلوگرام سونا برآمد کیا ہے جس کی مارکیٹ قیمت تقریباً 1.3 ملین امریکی ڈالر بتائی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شیخ حسینہ واجد کی سزا پر بنگلہ دیشی عوام کیا کہتے ہیں؟
قومی محصولات کے مرکزی انٹیلیجنس سیل کے اہلکاروں نے بتایا کہ یہ دریافت ستمبر میں ضبط کیے گئے لاکرز کو کھولنے کے بعد ہوئی۔
ایک سینیئر اہلکار نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عدالتی حکم کے تحت لاکرز کھولے گئے تو ہمیں سابق وزیرِ اعظم کی ملکیت میں تقریباً 9.
اس میں سونے کے سکے، اینیٹی اور زیورات شامل تھے۔
مزید پڑھیے: حسینہ واجد کو سزائے موت، بنگلہ دیش میں کہیں جشن، کہیں ہلچل
تفتیش کاروں کے مطابق حسینہ نے اپنے عہدے کے دوران موصول ہونے والے کچھ تحائف کو ریاستی خزانے (توشاخانہ) میں جمع کرانے میں ناکامی کی تھی، جو قانون کے تحت ضروری تھا۔
نیشنل بورڈ آف ریونیو بھی مبینہ ٹیکس چوری کی تحقیقات کر رہا ہے اور یہ دیکھ رہا ہے کہ کیا سابق وزیرِ اعظم نے بازیاب شدہ سونا اپنی ٹیکس رپورٹس میں ظاہر کیا تھا یا نہیں۔
بنگلہ دیش میں حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد سیاسی ہلچل جاری ہے اور فروری 2026 میں متوقع انتخابات کی مہم کے دوران تشدد کی خبریں سامنے آئی ہیں۔
مزید پڑھیں: ’شیخ حسینہ کو نہیں بھارتی بالادستی کو سزائے موت سنائی گئی‘، بالآخر تاریخ کا فیصلہ سامنے آگیا
یاد رہے کہ اس ماہ کے اوائل میں انٹرنیشنل کرائمز ٹریبیونل نے طلبہ کی قیادت میں ہونے والے احتجاج پر ہونے والے پرتشدد کریک ڈاؤن کے سلسلے میں شیخ حسینہ کو سزائے موت سنائی تھی۔ اقوام متحدہ کے مطابق اس کریک ڈاؤن میں تقریباً 1,400 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بنگلہ دیش حسینہ واجد کا سونا ضبط سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش حسینہ واجد کا سونا ضبط سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد حسینہ واجد بنگلہ دیش
پڑھیں:
فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید(فائل فوٹو)۔ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید نے امیر جماعتِ اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن کے بیان پر ردِعمل دے دیا۔
ایک بیان میں سعدیہ جاوید کا کہنا ہے کہ فلاحی ریاست کا درس دینے والے آج غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں ہیں؟
ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ حافظ نعیم الرحمٰن کا بیان ان کی سطحی اور غریب دشمن سوچ کا عکاس ہے۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو فراڈ قرار دینا لاکھوں مستحق خاندانوں کی توہین کے مترادف ہے۔