لاہور میں دوسری انٹرنیشنل باکسنگ چیمپئن شپ کا میلہ سج گیا
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
لاہور میں دوسری انٹرنیشنل باکسنگ چیمپئن شپ کا میلہ سج گیا، 38 غیر ملکی باکسرز سمیت 6 پاکستان باکسرز بھی ایکشن میں ہوں گے، محمد وسیم اپنے ورلڈ ٹائٹل کا دفاع کریں گے۔
مہمان کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ پاکستان آکر بہت اچھا لگا، سکیورٹی سمیت تمام انتظامات بہت زبردست ہیں۔ ورلڈ باکسنگ ایسوسی ایشن کے تعاون سے فائٹ فار گلوری انٹرنیشنل باکسنگ چیمپئن شپ غیر ملکی باکسرز اور آفیشلز پاکستان کے مہمان بن گئے۔
پریس کانفرنس میں صوبائی وزیر کھیل فیصل ایوب کھوکھر مہمان خاص تھے۔ جنہوں نے غیر ملکی باکسرز کی آمد کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ حکومت کھیلوں کے فروغ کے لیے بھر پور اقدامات کررہی ہے۔
چیمپئن شپ میں چھ پاکستانی اور پینتیس بین الاقوامی باکسرز ٹائٹل کے لیے مدمقابل ہوں گے۔ امریکا، برطانیہ، جرمنی، کوریا، آسٹریلیا، آئرلینڈ، فلپائن نیدرلینڈز، مراکو، بینن، گھانا اور فرانس سمیت دیگر ممالک کے باکسرز اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں گے، محمد وسیم اور تھائی لینڈ کے چکرورتی کے درمیان ڈبلیو بی اے سپر بینتھم ویٹ ٹائٹل فائٹ 29 نومبر کو ہوگی۔
محمد وسیم کا کہنا ہے کہ پاکستان میں انٹرنیشنل باکسرز کا ریکارڈ تعداد میں آنا پاکستان پر اعتماد کا اظہار ہے۔ ورلڈ باکسنگ ایسوسی ایشن کے نمائندے بھی یہاں موجود ہیں۔ محمد وسیم نے کہا کہ ٹائٹل کے لیے بھرپور تیاری کی ہے۔ کوشش ہوگی کہ اپنے ٹائٹل کا دفاع کرکے ملک کا نام روشن کروں۔
انٹرنیشنل سطح پر پاکستان کی نمائندگی کرنے والی لوورا اکرم نے پاکستان میں باکسنگ مقابلوں پر خوشی کا اظہار کیا ہے، غیر ملکی باکسرز پاکستان کی مہمان نوازی کی کھل کر تعریف کی۔ چیمپئن شپ میں ملک بھر سے شائقین، قومی ہیروز سمیت شوبز کی ممتاز شخصیات بھی اس ایونٹ کی رونق کو دوبالا کر رہی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: غیر ملکی باکسرز چیمپئن شپ
پڑھیں:
مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے آیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔
انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔
بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔