محمود اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کی عمران خان کی بہنوں سے ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس نے عمران خان کی بہنوں سے ملاقات کی ہے۔ بنی گالہ میں ملاقات کے بعد محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس نے عمران خان کی بہنوں کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کی۔ محمود اچکزئی کا کہنا تھا کہ ایک غلط فہمی ملک میں پھیلا دی گئی ہے کہ ایک آدمی ہے جو باغی ہے اس کوتوڑنا ہے، یہ 25 کروڑ انسانوں کی لڑائی ہے ، یہ زر اور زور کی بنیاد پر حکومت لی گئی۔ اْنہوں نے کہا کہ لوگوں کے گھروں میں جاکر انہیں بے عزت کیا گیا ،یہ جرم ہے ، ظالم حکمران کے سامنے کھڑا ہونا جہاد ہے،ہم مطمئن ہیں،کیوں کہ اللہ مظلوم کے ساتھ ہے، کسی کی طاقت فرعون سے زیادہ نہیں ہے۔ علامہ ناصر عباس کا کہنا تھا کہ گزشتہ رات ظلم ڈھایا گیا،اور بانی پی ٹی آئی کی بہنوں پر تشدد کیا، یہ ظلم کے مقابلے میں مسکرا رہی ہیں۔ اْنہوں نے کہا کہ 26 ویں اور 27 ویں ترمیم نے سسسٹم کو گرادیا ، پیکا ایکٹ کے ذریعے میڈیا کے گلے میں پھندا ڈال دیا، پاکستان نے اقوام متحدہ میں جو ووٹ دیا اس سے سب ایکسپوز ہوگیا ،آنے والا جمعہ آزمائش کا امتحان ہے۔ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا تھا کہ گزشتہ رات ہم اکیلی نہیں تھیں دیگر خواتین بھی ہمارے ساتھ تھیں، ان کا ارادہ مجھے جیلوں میں بھیجنے کا ہے،یہ ہم سب بہنوں کو جیل میں بھیج دیں ہمیں پرواہ نہیں ہے ،ہم پھراڈیالہ جائیں گی،چاہے مار دیں ہمیں کوئی ڈر نہیں۔ نورین نیازی نے کہا کہ ہم محمود اچکزئی کے شکر گزار ہیں، ہمیں حوصلہ ملا ہے ، بانی کا درست فیصلہ تھا کہ دونوں تحریک چلائیں گے، یہ لوگوں کے گھروں میں گھسے ،ظلم کیا، اب جو تحریک چلے گی یہ دونوں لیڈ کریں گے ہم ساتھ ہوں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: علامہ ناصر عباس عمران خان کی کی بہنوں تھا کہ
پڑھیں:
بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
راولپنڈی: بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو تنبیہ کی ہے کہ عمران خان سے ملاقات ہونے تک صوبے کا بجٹ منظور نہ ہونے دیں۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعلی سہیل آفریدی نے علیمہ خان کے ساتھ فیکٹری ناکے پر میڈیا سے گفتگو کی۔ اس دوران سہیل آفریدی نے بجٹ پاس کرنے کی بات کی تو علیمہ خان نے انہیں ٹوک دیا۔
علیمہ خان نے سہیل آفریدی کو خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس کرنے پر تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ بجٹ پاس کیوں کر رہے ہیں؟ ان سے کہیں پہلے میری بانی سے ملاقات کروائیں‘۔
علیمہ خان نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے پچھلے سال بھی کہا تھا میرے ساتھ بجٹ پر بات کرو ، آپ آج بھی ان سے کہیں بجٹ سے پہلے بانی سے ملاقات کرائیں ۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ گلگت بلتستان میں سارے لوگ ظلم کیخلاف کھڑے ہوگئے ہیں۔ بانی پی ٹی آئی کو تنہا کیا گیا جو غیر قانونی اور غیر آئینی ہے، ہمارا یہاں آنے کا ایک ہی مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشل منتقل کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ بانی کا علاج انکی فیملی اور ذاتی معالج کی موجودگی میں ہو، ان کے مقاصد کچھ اور ہیں اس لئے یہ ملنے نہیں دے رہے۔ عید سے پہلے انہون نے ہمیں گیارہ گھنٹے تک روک کر عوام کو مصیبت میں ڈالا گیا
اُن کا کہنا تھا کہ مجھے اگر نہیں ملنے دیتے تو فیملی کو کم از کم ملنے دیا جائے، پاکستان تحریک انصاف بانی پی ٹی آئی کا نام ہے، بانی نے جیل سے فیصلہ کیا کہ فلاں وزیر اعلیٰ نہیں ہو گا، بانی کے فیصلے کے بعد کوئی بھی طاقت اس کو نہیں بچا سکتی تھی۔
مزید پڑھیںاڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات
190 ملین پاؤنڈ کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کے وکالت ناموں پر دستخط نہ ہو سکے
علیمہ خان نے سابق آرمی چیف کی عمران خان سے ملاقات کی خبر کو بے بنیاد قرار دیدیا
انہوں نے کہا کہ بانی نے کہا سہیل آفریدی وزیر اعلیٰ ہو گا تو دنیا کی کوئی طاقت اس کو تبدیل نہیں کرسکتی، اڈیالہ جیل سے جب تک بانی کا کوئی نیا پیغام نہیں آئے گا میں ہی وزیر اعلیٰ رہوں گا۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ کے پی کی حکومت فقط بانی پی ٹی ہی ختم کر سکتے ہیں اور اس کے علاوہ یہ کام کوئی نہیں کرسکتا، صوبے میں فارورڈ بلاک پروپیگینڈا ہے اور یہ اس لئے کیا گیا وفاقی بجٹ میں ایک بار پھر عوام کا خون چوسا جائے گا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان کے اندرونی و بیرونی قرضے 97 ارب تک پہنچ چکے، حکومت ٹیکس کے اہداف پورے نہیں کر سکی اور آج حکومت میں شامل پارٹیاں عوام کا نہیں سوچ رہیں۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ پاکستان کا تجارتی خسارہ دن بدن بڑھتا جا رہا ہے، میری تمام لوگوں سے درخواست ہے کہ وہ بانی کے علاج کیساتھ اس بجٹ پر فوکس رکھیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ کے پی حکومت نے کابینہ سے بجٹ پیپر پاس کر دیا ہے اور ہم نے کوئی سرپلس بجٹ نہیں دیا، اس سال بھی عوام دوست بجٹ پیش کیا جائے گا۔ ہمارا سارا فوکس صحت تعلیم زراعت نوجوان اور جنگلات پر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم اپنے بجٹ میں بہت اچھی اور عوام دوست چیزیں لا رہے ہیں، وفاقی بجٹ کا اثر سارے صوبوں بشمول گلگت بلتستان پر پڑے گا۔