کراچی ، ڈکیتی مزاحمت پر شہری قتل، رواں سال مجموعی تعداد 79 ہوگئی
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
کراچی (نیوزڈیسک) شہرقائد میں مسلح ڈکیتوں نے مزاحمت پرایک اورشہری کوقتل کردیا۔تفصیلات کے مطابق واقعہ شرافی گوٹھ تھانے کے علاقےشاہ علی گوٹھ کے قریب محمد سٹی میں گھرمیں دوران ڈکیتی پیش آیا۔
مقتول نجی میڈیسن کمپنی میں ملازمت کرتا تھا اورتین بیٹیوں کا باپ اور گھر کا واحد کفیل تھا۔ پولیس کے مطابق 3 مسلح ڈکیت مقتول کے گھرمیں ڈکیتی کی نیت سے داخل ہوئے تومقتول نے مزاحمت کی جس پرمسلح ملزمان نے فائرنگ کردی۔
فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے شہری کی لاش قانونی کارروائی کے لیے جناح اسپتال منتقل کی گئی جہاں مقتول کی شناخت 50سالہ شاہد ولد عبدالکریم کے نام سے کی گئی۔ ایس ایچ اوقمرعباس نےبتایا کہ پولیس نے جائے وقوع سے شواہد اکٹھا کرکے واقعے کی تفتیش شروع کردی ہے اورواقعے کی سی سی ٹی فوٹیج حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہے تاکہ واقعے میں ملوث ملزمان کا سراغ لگایا جاسکے۔
جناح اسپتال میں مقتول کے رشتہ دار محمد عمیرنے بتایا کہ مقتول شاہد گھرکا واحد کفیل تھا اور جمعرات کوانھوں نے اتفاقیہ ملازمت سے چھٹی کی تھی اوربارہ ساڑھے بارہ گھرکے قریب تین مسلح ڈکیت ان کے گھرمیں داخل ہوئے توگھرمیں بچیاں موجود ہونے کی وجہ سے انھوں نے ڈکیتوں کو گھرسے باہرنکلنے کا کہا توڈکیتوں نے فائرنگ کردی اورفرارہوگئے۔
انھوں نے بتایا کہ مقتول انتہائی شریف النفس انسان تھے اوران کی کسی سے کوئی دشمنی بھی نہیں تھی، مقتول کے رشتہ داروں نے اعلیٰ پولیس حکام سے انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے میں ملوث ملزمان کا سراغ لگا کرانہیں کیفرکردارتک پہنچایا جائے۔
واضح رہے کہ رواں سال شہرقائد میں ڈکیتی کی وارداتوں کے دوران مزاحمت پر مسلح ملزمان کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے شہریوں کی تعداد 79 ہوگئی ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔