اسلام آباد:(نیوزڈیسک) وزیراعظم کے سیاسی مشیر رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری افہام و تفہیم سے کرنے کی کوشش ہے۔

وفاقی دارالحکومت میں نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ آئینی امور پر باہمی اتفاقِ رائے سے پیش رفت کی جائے گی، جب کہ 18ویں ترمیم کے بعد وفاق اور صوبوں کے درمیان بعض پہلوؤں میں عدم توازن ایک حقیقت ہے جسے مل بیٹھ کر سے حل کرنا ہوگا۔

اُنہوں نے کہا کہ صوبوں کو چلانا فیڈریشن کی اور فیڈریشن کو چلانا صوبوں کی ذمہ داری ہے، لہٰذا یہ معاملات بات چیت اور تعاون ہی سے آگے بڑھ سکتے ہیں۔

وزیراعظم کے مشیر کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں ایک مثبت پیشرفت شروع ہوچکی ہے اور ایسی تجاویز زیرِ غور ہیں جن میں این ایف سی ایوارڈ کے حصے کو کم کیے بغیر آئینی ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

رانا ثنااللہ نے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے تمام اتحادی جماعتوں اور متعلقہ فریقین کو اعتماد میں لینے کی کوشش کی جائے گی، اُن کے بقول یہ طے ہے کہ وہی ترمیم آگے بڑھے گی جس پر سب کا اتفاق ہوگا، اور جن نکات پر اختلاف ہوگا اُنہیں آئندہ کے لیے زیرِ بحث رکھا جائے گا۔

اُنہوں نے مزید کہا کہ ترمیمی عمل کے دوران دیگر اُمور، جیسے بلدیاتی نظام، اوورسیز پاکستانیوں کی انتخابی شمولیت، ججوں کے تبادلے اور الیکشن کمیشن کے دائرۂ کار پر بھی اتفاقِ رائے سے فیصلے کیے جائیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری

دارالحکومت اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دے دی گئی۔

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈارکی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی و عملدرآمد کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دی گئی۔  

اعلامیہ کے مطابق دکانیں، مارکیٹیں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل رات 9 بجے تک کھلے رہ سکیں گے جبکہ ریسٹورنٹس رات 11 بجے تک کھلے رہیں گے، ٹیک اوے اور ڈلیوری سروسز مستثنیٰ ہوں گی۔ 

 اعلامیہ کے مطابق شادی ہالز اور تقریباتی مقامات کے اوقات رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ 

 اعلامیہ کے مطابق فارمیسی، اسپتال، پیٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق ضروری خدمات اوقات کار کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔ 

صوبائی حکومتوں کو وفاقی اداروں کے تعاون سے نئے اوقات کار پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے ؛ سہیل آفریدی
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار