اسلام آباد‘ لاہور (نمائندہ خصوصی +خبر نگار +نوائے وقت رپورٹ ) وزیراعظم شہباز شریف نے27 ویں ترمیم کے تناظر میں وزراء اور ارکان پارلیمنٹ کے غیر ملکی دورے منسوخ کر دئیے۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نے تمام وزراء اور ارکان پارلیمنٹ کو اسلام آباد میں رہنے کی ہدایت کر دی۔ 27 ویں آئینی ترمیم پر تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق رائے حاصل کرنے کے لیے سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کو اہم ٹاسک دے دیا۔ اجلاس میں تحریکِ انصاف اور جمعیت علمائے اسلام (ف) سمیت تمام بڑی جماعتوں کے پارلیمانی لیڈرز اور اتحادی جماعتوں کے چیف وہپس کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اہم اجلاس آج (جمعرات) کے روز منعقد ہو گا۔ اجلاس کی صدارت چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کریں گے۔ اجلاس میں صدر مملکت آصف علی زرداری کی شرکت بھی متوقع ہے۔ اجلاس میں مجوزہ 27ویں آئینی ترمیم کے نکات، ان کے اثرات پر غور اور حکومت کی حمایت کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کے بعد آئندہ کے حوالے سے لائحہ عمل مرتب کیا جائے گا۔ ستائیسویں آئینی ترمیم 14 نومبر تک دونوں ایوانوں سے منظور کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ سپیکر قومی اسمبلی نے پارلیمانی پارٹیوں کے رہنماؤں کا اجلاس طلب کیا تاہم اجلاس نہ ہو سکا۔ ذرائع کے مطابق ہاؤس بزنس ایڈوائزری کی کمیٹی میں طے پایا ہے کہ 27 ویں ترمیم پہلے سینٹ سے پاس کی جائے گی۔ سینٹ سے پاس ہونے کے بعد 27 ویں ترمیم قومی اسمبلی سے پاس کرائی جائے گی۔ شازیہ مری نے کہا ہے کہ 27 ویں آئینی ترمیم کی تجاویز آج سی ای سی اجلاس میں زیرِ غور آئیں گی۔ بلاول  نے ٹویٹ میں ترمیمی نکات اجاگر کیے، پیپلز پارٹی 18ویں آئینی ترمیم پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی، پیپلز پارٹی کو آئین میں کمزوری برداشت نہیں، عوامی مفاد اولین ترجیح، چیئرمین بلاول مکالمے، مشاورت اور شفافیت پر یقین رکھتے ہیں، وزیراعظم کی بریفنگ کے بعد چیئرمین بلاول نے عوام کو اعتماد میں لیا۔اپوزیشن وفد نے فضل الرحمن سے ملاقات کی۔ ذرائع کے مطابق 27 ویں آئینی ترمیم پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اپوزیشن رہنماؤں نے  فضل الرحمان سے ملاقات کے بعد کہا کہ ہم ان  کے شکر گزار ہیں، انہوں نے محمود خان اچکزئی کی حمایت کی ہے، اسد قیصر نے کہا کہ27 ویں آئینی ترمیم سے متعلق دیکھیں گے اپوزیشن ایوان میں اکٹھی ہو گی جو حکمت عملی ہو گی وہ متفقہ ہو گی۔فضل الرحمن نے کہا کہ ایک وزیر تین ماہ سے اس ترمیم پر کام کر رہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: ویں آئینی ترمیم پیپلز پارٹی اجلاس میں ویں ترمیم کے بعد

پڑھیں:

وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت سرمایہ کاری میں اضافہ اور معیشت کی مجموعی ترقی کے لئے شعبہ جاتی اصلاحات اور پالیسی اقدامات پر جائزہ اجلاس ہوا۔

نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ ملکی معیشت کی پائیدار ترقی کے لئے صنعت وحرفت کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ صنعتی مصنوعات کی ملکی پیداور اضافے کے ساتھ ساتھ برآمدات بڑھانے کے لیے موٴثر پالیسی اقدامات حکومتی ترجیحات کا حصہ ہیں، صنعت و تجارت اور معیشت کے مختلف شعبہ جات میں اصلاحات کا مقصد طویل المدتی معاشی افادیت اور عوامی فلاح ہونا چاہئے۔ 

ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار

وزیراعظم نے کہا کہ مستقبل کی توانائی کی ضروریات کو متبادل توانائی کے ذرائع سے پورا کرنے کے لیے جامع حکمت عملی پر بھرپور انداز میں کام ہو رہا ہے، توانائی کی بچت اور سستی ٹرانسپورٹ کی ملکی ضروریات پوری کرنے کے لئے جامع اور موثر الیکٹرک وہیکلز پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کی مختلف شعبوں میں شمولیت کے لئے تمام وزارتیں اور ماہرین کی بامعنی مشاورت کو یقینی بنائیں، موثر ترقیاتی پالیسیز کی تشکیل و نفاذ کے لیۓ تمام وزراتیں باہمی تعاون اور ہم آہنگی سے کام کریں، تمام اصلاحات اور اقدامات میں انتظامی شفافیت اور بہترین کارکردگی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر

اجلاس میں متعلقہ وزارتوں کی جانب سی مختلف زیر غور پالیسی تجاویز پر بریفنگ دی گئی۔

اجلاس میں نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وفاقی وزیر پاور ڈیویژن سردار اویس لغاری، وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک، کے معاون خصوصی ہارون اختر اور ڈائریکٹر جنرل ایس آئی ایف سی میجر جنرل اسد الرحمن چیمہ اور متعلقہ اداروں کے عہدے داران نے شرکت کی۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ