پاکستان میں آئین کی حکمرانی نہیں، نیا سوشل کنٹریکٹ کریں، محمود اچکزئی
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
سٹی42: پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے لیڈر اور پی ٹی آئی کے سیاسی اتحاد کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے ایک بار پھر بغاوت کرنے کا اعلان کیا اور اس کے ساتھ یہ بھی کہا کہ تمام سیاسی جماعتیں نیا سوشل کنٹریکٹ کریں۔
پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے یہ باتیں پی ٹی آئی کے بانی چئیرمین کی بہنوں علیمہ خان، نورین خان اور عظمیٰ خان کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہیں۔
آئندہ برس مون سون کے نقصانات سے بچنے کیلئے ابھی سے تیاری کی جائے؛ وزیراعظم
محمود اچکزئی نے الزام لگایا کہ پاکستان میں آئین کی حکمرانی نہیں ہے۔ سیاسی جماعتیں آئین کی حکمرانی بحال کریں اور ایک سماجی معاہدہ کریں جس پر تمام جماعتیں دستخط کریں۔
محمود اچکزئی نے کرپشن کیس مین طویل قید کی سزا کاٹ رہے پی ٹی آئی کے بانی کے متعلق کہا، "میں عمران خان کی ضمانت دیتا ہوں وہ کسی کے خلاف کارروائی نہیں کرے گا۔"
محمود خان اچکزئی کی یہ پریس کانفرنس منگل اور بدھ کی درمیانی رات اڈیالہ جیل روڈ پر ایک پولیس چیک پوسٹ کے قریب بانی کی تین بہنوں کے کئی گھنٹے کے دھرنے کے بعد سامنے آئی ہے۔ اس دھرنے کو ختم کرنے کے لئے لیڈی پولیس نے نصف شب کارروائی کر کے بانی کی بہنوں کو حراست مین لے کر چکری انٹرچینج پر لے جا کر چھوڑ دیا تھا جہاں سے وہ لاہور واپس چلی گئی تھیں۔
پنجاب حکومت کا غیر قانونی مقیم افغانیوں کی اطلاع دینے والوں کیلئے نقد انعام کا اعلان
بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہنوں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے محمود اچکزئی نے کہا کہ ایک غلط فہمی ملک میں پھیلا دی گئی ہے کہ ایک آدمی ہے جو باغی ہے اس کو توڑنا ہے، یہ 25 کروڑ انسانوں کی لڑائی ہے، یہ زر اور زور کی بنیاد پر حکومت لی گئی، لوگوں کے گھروں میں جاکر انہیِں بے عزت کیا گیا یہ جرم ہے۔ ایک طرف "ایک آدمی" کے باغی ہونے کے تاثر کو غلط قرار دیتے ہوئے دوسری طرف محمود اچکزئی نے دعویٰ کیا، ہم نے علم بغاوت بلند کیا ہے، اس ملک میں آئین کی حکمرانی ہوگی ادارے اپنا اپنا کام کریں، اس پر سیاسی جماعتیں دستخط کریں، بانی پی ٹی آئی کے دستخط میں لے آؤں گا بانی کی ضمانت ہم دیں گے وہ کسی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرے گا۔
پنجاب؛ آئمہ کرام کے وظیفے کی منظوری و نگرانی کا نیا نظام تیار
انہوں نے کہا کہ ظالم حکمران کے سامنے کھڑا ہونا جہاد ہے۔ کسی کی طاقت فرعون سے زیادہ نہیں ہے سب سے پوچھ کچھ ہوگی۔
محمود اچکزئی نے کہا، ہمارا کسی جنرل، شریف یا زرداری سے کوئی اختلاف نہیں، ایک اچھا سماجی معاہدہ کریں پاکستان کو چلائیں، ہمیں حکمران نہیں بننا، بس ہمارا آئین ہمیں واپس کردو۔
Waseem Azmet.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: محمود اچکزئی نے ئین کی حکمرانی پی ٹی ا ئی
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔