انجمن طلبہ اسلام کے مرکزی صدر فیصل قیوم ماگرے کی وفد کے ہمراہ سید آفتاب عظیم بخاری سے ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
ملاقات کے دوران اے ٹی آئی کے مرکزی صدر کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بہتر جمہوری روایات وکلچر کے فروغ کیلئے ''طلبہ یونین'' پر عائد پابندی ختم کرکے طلبہ کو اپنے جمہوری حق کیلئے ''ایس او پیز'' کے ساتھ یونین کے الیکشن کروانے کی اجازت دی جائے، تمام سیاسی ومذہبی جماعتوں پر تعلیمی اداروں میں مداخلت پر پابندی لگا کر صرف طلبہ کو تعلیمی اداروں میں مثبت سرگرمیوں کی اجازت دی جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انجمن طلبہ اسلام کے مرکزی صدرفیصل قیوم ماگرے نے کہا ہے کہ پاکستان میں جمہوریت کے فروغ کیلئے سیاسی جماعتوں کا پہلا ایجنڈا مضبوط ومستحکم پاکستان ہونا چاہیے۔ تعلیمی نظام اور اداروں میں مثبت سرگرمیوں کے فروغ کیلئے ''طلبہ یونین'' پر عائد پابندی ختم کی جائے، پاکستان کے تمام مسائل وبحرانوں کا واحد حل قانون و آئین کی بالادستی قائم کرنے میں ہے۔ ملک وقوم کے درمیان بداعتمادی ونفرت پیدا کرنے والے کردار بے نقاب کرنا وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے، ریاست جب ماں کا کردار ادا کریگی تو قوم اس کے گرد محبت سے اکٹھی ہوجائے گی۔ ان خیالات کا اظہار پاکستان فلاح پارٹی کے سینئر وائس چیئرمین سید آفتاب عظیم بخاری نے انجمن طلبہ اسلام کے مرکزی صدر فیصل قیوم ماگرے کی قیادت میں ملنے والے ذمہ داران سے ملاقات کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے کہا کہ کسی بھی معاشرے میں ظلم وجبر زور زبردستی فسطائیت کا رویہ ہوگا تو نفرتوں کو تقویت ملے گی جو کہ ملک وقوم کیلئے انتہائی نقصان دہ ہوتا ہے۔ ملک وقوم کے دشمن کا ایجنڈا انتشار و افتراق ہے، ہمیں بحیثیت قوم مکمل اتحاد واتفاق سے ملک کے خلاف ہونیوالی ہر سازش کو ناکام بنانے کیلئے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، پاکستان کی بہتری تعمیر وترقی، خوشحالی، استحکام و فلاح ہمار اپہلا اور آخری ''ایجنڈا'' ہونا چاہیے کیوں کہ یہ وطن کسی خاص گروہ، طبقے، قوم و نسل کا نہیں بلکہ ہم سب کے آباو اجداد کی محنت وقربانیوں کا ثمر ہے، ہمیں اپنے آباو اجداد کی وراثت کو ازحد جان عزیز رکھنا ہے۔
اُنہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں بہتر جمہوری روایات وکلچر کے فروغ کیلئے ''طلبہ یونین'' پر عائد پابندی ختم کرکے طلبہ کو اپنے جمہوری حق کیلئے ''ایس او پیز'' کے ساتھ یونین کے الیکشن کروانے کی اجازت دی جائے، تمام سیاسی ومذہبی جماعتوں پر تعلیمی اداروں میں مداخلت پر پابندی لگا کر صرف طلبہ کو تعلیمی اداروں میں مثبت سرگرمیوں کی اجازت اور انتخابات کروانے میں حکومت کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، اس موقع پر مرکزی نائب صدر اے ٹی آئی محمد عرفان ساہمل، ناظم پنجاب ملک عمیر اعوان، سابق صدر اے ٹی آئی معظم شہزاد ساہی، ناظم جامعہ زرعیہ حیدر علی چدھڑ، ملک ساجد اظہر و دیگر ذمہ داران بھی موجود تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: تعلیمی اداروں میں کے فروغ کیلئے کے مرکزی صدر کی اجازت طلبہ کو
پڑھیں:
تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری۔فوٹو: فائلوزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ ہوئے، ورلڈ سمٹ آن دی انفارمیشن سوسائٹی (ڈبلیو ایس آئی ایس) میں دو منصوبوں کی شارٹ لسٹنگ کے ساتھ دنیا کا واحد ملک بن گیا۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ اقوامِ متحدہ ڈبلیو ایس آئی ایس پرائز 2026 میں پنجاب کا ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی میرا پیارا عالمی چیمپئن پروجیکٹ قرار پایا، ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ پروجیکٹ دنیا کے ٹاپ فائیو میں شامل ہوگیا۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ پنجاب حکومت کا ورچوئل ویمن پولیس اسٹیشن بھی دنیا بھر کے ٹاپ 20 پروجیکٹس میں شارٹ لسٹ ہوگیا، ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کی بدولت 77 ہزار سے زائد گمشدہ بچے بازیاب، ماؤں کی گودیں ہری ہو گئیں، حکومت نے 3 ہزار اسپیشل (معذور) بچوں کو بھی تلاش کر کے خاندانوں سے ملوایا، بدسلوکی، آن لائن استحصال اور کمزور بچوں کے تحفظ کے ہزاروں کیسز حل کیے گئے۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پنجاب میں اب تک مختلف کیٹیگریز کے 1,45,772 کیسز رپورٹ، 1,36,157 کیسز کو کامیابی سے حل کیا گیا، رپورٹ ہونے والے مقدمات میں سے 26,274 ایف آئی آرز رجسٹرڈ،7,081 چالان عدالتوں میں جمع کروا دیے گئے۔
صوبائی وزیر نے مزید بتایا کہ گمشدہ اور اغوا ہونے والے 54,741 بچوں میں سے 53,811 بچوں کو کامیابی سے تلاش کر کے اہلخانہ سے ملا دیا گیا، ریسکیو ٹیموں کی کارروائی کے نتیجے میں 22,989 بچے ملے، 21,178 کو خاندانوں کے سپرد کیا گیا، اس وقت سسٹم میں 930 بچے لاپتہ اور 1,811 بچے تاحال غیر شناخت شدہ ہیں۔
وزیر اطلاعات پنجاب نے کہا کہ بچوں پر تشدد اور ابیوز کے 15,447 کیسز رپورٹ ہوئے، 5,075 ایف آئی آرز درج کی گئیں، چائلڈ ابیوز کیسز میں 3,830 ملزمان کو گرفتار کر کے 4,168 مقدمات کے چالان عدالتوں میں جمع کروائے جا چکے ہیں، بچوں کے خلاف آن لائن اور ڈیجیٹل ابیوز کے 191 کیسز سامنے آئے، 14 ایف آئی آرز درج اور 5 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ خصوصی افراد کے مجموعی طور پر 4,377 کیسز رپورٹ ہوئے، 2,984 افراد کو بازیاب کروا کے خاندانوں سے ملایا گیا، خصوصی افراد کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پولیس نے اب تک 646 ایف آئی آرز درج کیں، چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں 251 اور دارالامان میں 14 متاثرہ افراد کو فوری پناہ اور حکومتی سرپرستی فراہم کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے میرا پیارا یو این گلوبل چیمپئن قرار دیے جانے پر اظہار تشکر کیا۔