27ویں آئینی ترمیم پر اپوزیشن کا ردِعمل، ملک گیر احتجاجی مہم کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
اسلام آباد: اپوزیشن اتحاد کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے حکومت کے خلاف جمعہ سے ملک گیر احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محمود اچکزئی کے ہمراہ مختلف اپوزیشن جماعتوں کے رہنما بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن 27ویں آئینی ترمیم اور دیگر حکومتی فیصلوں کو غیر جمہوری اور عوامی مینڈیٹ کے خلاف سمجھتی ہے، اس لیے جمعہ سے بھرپور احتجاجی تحریک شروع کی جا رہی ہے۔
محمود اچکزئی نے کہا کہ “ہم ہر قسم کے مذاکرات کے لیے تیار ہیں، لیکن مذاکرات اسی نکتے پر ہوں گے کہ ہمارا مینڈیٹ واپس کیا جائے۔” ان کا کہنا تھا کہ ملک میں آئین اور عوامی نمائندگی کو پامال کیا جا رہا ہے، اور اپوزیشن اب مزید خاموش نہیں رہ سکتی۔
واضح رہے کہ قومی اسمبلی نے گزشتہ روز 27ویں آئینی ترمیم کو دو تہائی اکثریت سے منظور کیا تھا، جب کہ ترمیم کا نیا متن آج سینیٹ میں منظوری کے لیے بھیجا جا رہا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے ایوان میں اس بل کی شدید مخالفت کی، کاپیاں پھاڑ دیں اور اسپیکر ڈائس کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے کارروائی کا بائیکاٹ کیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
علماء کا سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کا اعلان
پشاور (بیورو رپورٹ) خیبر پی کے کے علماء کرام نے سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ بھرپور تعاون کا اعلان کر دیا۔ اس ضمن میں محکمہ صحت خیبر پی کے نے یونیسیف کے تعاون سے متحدہ علماء بورڈ خیبر پی کے اور تنظیمات المدارس خیبر پی کے کے اشتراک سے سرویکل کینسر سے بچاؤ کے موضوع پر ایک اہم مشاورتی ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ ورکشاپ میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے ممتاز علماء کرام نے شرکت کی۔ ورکشاپ کا مقصد علماء کرام اور محکمہ صحت کے درمیان اعتماد، تعاون اور مشترکہ کوششوں کو فروغ دینا تھا تاکہ خواتین اور بچیوں کو سروائیکل کینسر سے محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر آگاہی پیدا کی جا سکے۔ اجلاس کے دوران علماء کرام نے اس اقدام کو سراہا اور کئی اہم سفارشات پیش کیں۔ انہوں نے ویکسین کے اجزاء، حفاظت اور تیاری کے بارے میں واضح معلومات فراہم کرنے، سوشل میڈیا، ٹی وی، ریڈیو، جمعہ کے خطبات، بل بورڈز، ہسپتالوں اور دیگر ذرائع سے بھرپور آگاہی مہم چلانے، علماء اور ماہر ڈاکٹروں کی مشاورت سے مشترکہ فتویٰ جاری کرنے، کینسر کے ماہرین اور علماء کے درمیان مسلسل رابطہ رکھنے، تمام مکاتب فکر کو ساتھ لے کر چلنے، بچیوں کی رازداری اور پردے کا مکمل خیال رکھنے اور محکمہ صحت کی قیادت میں آگاہی مہم کو آگے بڑھانے پر زور دیا۔