آئین میں مزید ترامیم کی کوشش اسکا تقدس مجروح کریگی، رضا ربانی
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
اپنے بیان میں سابق چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ وفاقی حکومت کے نمائندے اور بعض سیاسی جماعتیں آئینی ترامیم پر گفتگو کر رہی ہیں، آئینی ترامیم پر گفتگو ایسے ہو رہی ہے جیسے اتوار بازار میں خریداری کر رہے ہوں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی کا کہنا ہے کہ آئین میں مزید ترامیم کی کوشش اس کا تقدس مجروح کرے گی۔ اپنے بیان میں رضا ربانی نے کہا کہ وفاقی حکومت کے نمائندے اور بعض سیاسی جماعتیں آئینی ترامیم پر گفتگو کر رہی ہیں، آئینی ترامیم پر گفتگو ایسے ہو رہی ہے جیسے اتوار بازار میں خریداری کر رہے ہوں۔ اُنہوں نے کہا کہ 18ویں ترمیم سمیت 1973ء کا آئین ایک متفقہ دستاویز ہے، 18ویں ترمیم سمیت 1973ء کے آئین پر صوبوں اور پارلیمنٹ کی جماعتوں نے اتفاق کیا تھا۔ رضا ربانی نے کہا کہ متفقہ دستاویز کو متنازع ترامیم سے غیر مستحکم کرنے کی کوشش وفاق کیلئے تباہ کن ہوگی، 1973ء کے آئین میں مزید ترامیم کی کوئی بھی کوشش اس دستاویز کا تقدس مجروح کرے گی۔
میں رضا ربانی نے کہا کہ اس سے سیاسی موقع پرستوں کو نیا سیاسی ایجنڈے اٹھانے کا موقع ملے گا۔ رضا ربانی نے یہ بھی کہا کہ سیاسی موقع پرست وفاق کو آئینی عدم استحکام میں دھکیل دیں گے، یہ آئینی عدم استحکام موجودہ سیاسی عدم استحکام سے کہیں زیادہ سنگین ہوگا، آئینی و سیاسی عدم استحکام ملک میں انتشار کا باعث بنیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: آئینی ترامیم پر گفتگو عدم استحکام نے کہا کہ
پڑھیں:
اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔