اپنے بیان میں سابق چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ وفاقی حکومت کے نمائندے اور بعض سیاسی جماعتیں آئینی ترامیم پر گفتگو کر رہی ہیں، آئینی ترامیم پر گفتگو ایسے ہو رہی ہے جیسے اتوار بازار میں خریداری کر رہے ہوں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی کا کہنا ہے کہ آئین میں مزید ترامیم کی کوشش اس کا تقدس مجروح کرے گی۔ اپنے بیان میں رضا ربانی نے کہا کہ وفاقی حکومت کے نمائندے اور بعض سیاسی جماعتیں آئینی ترامیم پر گفتگو کر رہی ہیں، آئینی ترامیم پر گفتگو ایسے ہو رہی ہے جیسے اتوار بازار میں خریداری کر رہے ہوں۔ اُنہوں نے کہا کہ 18ویں ترمیم سمیت 1973ء کا آئین ایک متفقہ دستاویز ہے، 18ویں ترمیم سمیت 1973ء کے آئین پر صوبوں اور پارلیمنٹ کی جماعتوں نے اتفاق کیا تھا۔ رضا ربانی نے کہا کہ متفقہ دستاویز کو متنازع ترامیم سے غیر مستحکم کرنے کی کوشش وفاق کیلئے تباہ کن ہوگی، 1973ء کے آئین میں مزید ترامیم کی کوئی بھی کوشش اس دستاویز کا تقدس مجروح کرے گی۔

میں رضا ربانی نے کہا کہ اس سے سیاسی موقع پرستوں کو نیا سیاسی ایجنڈے اٹھانے کا موقع ملے گا۔ رضا ربانی نے یہ بھی کہا کہ سیاسی موقع پرست وفاق کو آئینی عدم استحکام میں دھکیل دیں گے، یہ آئینی عدم استحکام موجودہ سیاسی عدم استحکام سے کہیں زیادہ سنگین ہوگا، آئینی و سیاسی عدم استحکام ملک میں انتشار کا باعث بنیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: آئینی ترامیم پر گفتگو عدم استحکام نے کہا کہ

پڑھیں:

حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری

حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پیٹرول مہنگا ہو تو موٹرسائیکل سوار متاثر نہیں ہوتے، مشیر خزانہ کے بیان پر شدید ردعمل

نوٹیفکیشن کے مطابق اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔

نئی قیمتیں نافذ

جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے، جس کے بعد ملک بھر کے پیٹرول پمپوں پر صارفین کو نئی قیمتوں کے مطابق ادائیگی کرنا ہوگی۔

عوام پر مزید مالی دباؤ کا خدشہ

معاشی ماہرین کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں اشیائے خورونوش اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں پر بھی دباؤ آ سکتا ہے۔

مزید پڑھیں:ایران جنگ کے اثرات: پیٹرول مہنگا، یورپ میں الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں 51 فیصد اضافہ

ڈیزل کی قیمت میں اضافہ خاص طور پر مال بردار ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبے کے اخراجات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

حکومت ہر 15 روز بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں، درآمدی لاگت، روپے کی قدر اور ٹیکسوں کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ لیتی تھی لیکن اب روزانہ کی بنیاد پر یہ عمل جاری ہے۔

اسی جائزہ عمل کے تحت تازہ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمتیں ملک بھر میں نافذ العمل ہو گئی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پیٹرول پیٹرولیم مصنوعات درآمدی لاگت ڈیزل روپے کی قدر عالمی منڈی مہنگا

متعلقہ مضامین

  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن