Jasarat News:
2026-07-24@02:28:43 GMT

کراچی والوں کا نوحہ

اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251120-03-5
ہمیں اپنے موبائل پر ایک تحریر موصول ہوئی جو کہ گم نام تھی لاکھ کوشش کے باوجود ہمیں اس کے تخلیق کار کا پتا نہ چل سکا مگر آخری الفاظ تھے اس کو زیادہ سے زیادہ پھیلائیں اور کراچی کی آواز بن جائیں ورنہ؟؟ اس گم نام تحریر کی شروعات کچھ اس طرح سے ہوتی ہے۔

میں خوش ہوں کہ کراچی میں ٹارگیٹ کلنگ نہیں ہو رہی۔ کراچی میں بھتا خوری نہیں ہو رہی۔ کراچی میں اب چائنا کٹنگ نہیں ہو رہی۔ کراچی میں اب ہڑتالیں نہیں ہو رہیں اور یہ سب کچھ دہشت گرد کر رہے تھے اور حکومت وقت نے فوج اور رینجرز کے ذریعے آپریشن کر کے ان کا خاتمہ کر دیا اور کراچی کا امن بحال کر دیا۔ امن بحال ہونے کے بعد اب کراچی میں ماہانہ 5 ہزار موٹر سائیکلیں 8 ہزار موبائل چھینے جا رہے ہیں 250 ارب کے ٹریفک چالان کیے جارہے ہیں 60 ارب کا پانی بیچا جا رہا ہے۔ 50 ارب رشوت کا لین دین ہو رہا ہے۔ 50 کروڑ کا گٹکا بیچا جا رہا ہے۔ 10 ارب کا ایرانی تیل بیچا جا رہا ہے۔ 20 ارب پروجیکٹس اور ہاؤسنگ اسکیموں کے نام پر لوٹے جا رہے ہیں۔ کھلے عام ملک دشمن نعرے لگائے جا رہے ہیں ۔ ڈمپر ٹینکر لوگوں کو کچل رہے ہیں۔ شہر کی اکثریتی آبادی کو کھلے عام گالیاں دی جا رہی ہیں۔ کراچی کے باسیوں کی زمینوں پر بندوق کی نوک پر قبضے کیے جا رہے ہیں۔ پیسے کے نشے میں بدمست سرمایہ دار اور ان کی اولادیں سرعام غنڈہ گردی کر رہے ہیں۔ تعلیم، صحت، کے نام پر شہریوں کو لوٹا جا رہا ہے لیکن اس دفعہ دہشت گرد وہ نہیں ریاست اور اس کے گماشتے ہیں۔ پھر بھی یہ شہر 3000 ارب کا سالانہ ٹیکس ادا کر رہا ہے جس کا بقدر زکوٰۃ ڈھائی فی صد بھی اس شہر کو نہیں دیا جا رہا ہے تو میں پھر میں اپنے تمام بنیادی حقوق اور شہری سہولتوں سے دستبردار ہوتا ہوں۔ مجھے سرکاری نوکری بھی نہیں چاہیے۔ میرے بچوں کو مفت تعلیم بھی نہ دیں۔ میرا مفت علاج بھی نہیں کیا جائے۔ میرا چاہے کوئی کتنا بھی قریبی عزیر ہی کیوں نہ کچل دیا جائے میں ڈمپر بھی نہیں جلاؤں گا۔ لوڈ شیڈنگ میں گزارا کر لوں گا اور ٹوٹی ہوئی سڑکوں پر سفر بھی کر لوں گا۔ ٹینکر کا پانی بھی خریدوں گا اور گیس بجلی کا زائد بل بھی ادا کروں گا۔ اپنی گاڑی پر اجرک والی نمبر پلیٹ بھی خرید کر لگاؤں گا سندھی ٹوپی پہنوں گا اور رلی اوڑھ کے سوؤں گا۔ میں کبھی علٰیحدہ صوبے کا مطالبہ بھی نہیں کروں گا لیکن میں چاہتا ہوں کہ میرے اور میرے بچوں کے ساتھ یہ ریاستی دہشت گردی بند کی جائے۔ مجھے معلوم یہ کرنا تھا کہ رینجرز کراچی میں ان ریاستی، ثقافتی اور اخلاقی دہشت گرد ملک دشمن اور علٰیحدگی پسند گماشتوں کیخلاف آپریشن کب شروع کر رہے ہیں؟؟

اختر بھوپالی سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: نہیں ہو رہی جا رہے ہیں کراچی میں جا رہا ہے بھی نہیں

پڑھیں:

عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار

وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔

ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار